کرک، مندر جلانے کے مرکزی کردار مولوی سمیت 14 گرفتار

مزید چھاپے جاری

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس نے مندر کو آگ لگانے میں ملوث مولوی سمیت 15 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

گزشتہ روز سیکڑوں افراد کے ہجوم نے قدیم مندر پر دھاوا بول کر پہلے اس کو مسمار کیا اور پھر باقیات کو آگ لگادی۔ چیف جسٹس نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے جواب طلب کیا ہے۔

کرک پولیس نے واقعہ کے بعد سیکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے رات بھر چھاپے مارے جن میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مقامی مولوی محمد شریف کو پولیس نے دوپہر کے وقت حراست میں لیا۔

پولیس کے مطابق ویڈیوز اور تفتیش کی مدد سے واقعہ میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاریوں کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔

گزشتہ روز سیکڑوں افراد کے ہجوم نے قدیم مندر پر دھاوا بول کر پہلے اس کو مسمار کیا اور پھر باقیات کو آگ لگادی۔ چیف جسٹس نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے جواب طلب کیا ہے۔

کرک پولیس نے واقعہ کے بعد سیکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے رات بھر چھاپے مارے جن میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مقامی مولوی محمد شریف کو پولیس نے دوپہر کے وقت حراست میں لیا۔

پولیس کے مطابق ویڈیوز اور تفتیش کی مدد سے واقعہ میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاریوں کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے جلائے جانے والے مندر کا دورہ کیا جہاں آئی جی پی کو واقعے کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔

بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت اقلیتوں کو حاصل بنیادی حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مندر کو آگ لگانے کے واقعے کی تفتیش جاری ہے۔ واقعے کی باقاعدہ ایف آئی آر 300 سے زائد افراد کے خلاف درج کی گئی ہے اور اس ضمن میں 31 افراد کو حراست میں بھی لیا جاچکا ہے۔ باقی ملزمان کی نشاندہی ویڈیو کلپس اور فوٹیج کے ذریعے کی جارہی ہے جس کے بعد ان کی باقاعدہ گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

گزشتہ روزکرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سیکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔

ہندو رہنماء روہت کمار ایڈووکیٹ کے مطابق علاقہ مکینوں نے امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر کو مسمار کیا ہے۔

مندر جلانے والوں کا موقف ہے کہ ہندو برادری نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مندر میں توسیعی تعمیرات شروع کی تھیں، جس کے حوالے سے مقامی پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا مگر انہوں نے غیرقانونی تعمیرات نہیں رکوائیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے پر علاقہ مکین مشتعل ہوئے اور مندر پر حملہ کردیا۔

واقعے کے دوران پولیس کہیں نظر نہیں آئی تاہم کافی دیر بعد بھاری نفری علاقے میں پہنچی اور مشتعل افراد کو منتشر کرکے حالات پر قابو پالیا۔

واضح رہے کہ قیام پاکستان سے قبل کا یہ مندر برصغیر کی تقسیم کے بعد بند کردیا گیا تھا تاہم 2015ء میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسے کھولا گیا۔ مقامی ہندو اور مسلم برادری کے درمیان ایک ہفتہ قبل مندر سے ملحقہ اراضی پر تعمیر کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

KARAK

MINORITIES

Tabool ads will show in this div