کرونا وباء:جینے کی آس جگانے میں میوزک انڈسٹری کا کردار

لاک ڈاؤن میں عوام نے ذہنی سکون کیلئے موسیقی کاسہارالیا

فن موسیقی سے بھی ممکن ہے انسانی علاج، دلاور فگار کے اس مصرعے کی تشریح گزشتہ برس کھل کر سامنے آئی، کرونا کی وباء اور لاک ڈاؤن کے کٹھن مراحل میں بھی نئے گلوکاروں کی تخلیقی صلاحیت شائقین کے کانوں میں رس گھولتی رہی اور ان میں جینے کے حوصلے کو بلند رکھا، گویا دلاور صاحب کی اسی نظم کا ایک اور شعر حسب حال لگا کہ

اب مداوائے مرض ہوگا نئے انداز سے اب ہوالشافی کی آواز آئے گی ہر ساز سے

وباء کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں نے اپنا زیادہ تر وقت گھروں میں گزارا اوراس دوران بوریت کو کم کرنے میں میوزک نے لوگوں کو راحت کے آکسیجن کی سپلائی جاری رکھی، دیکھا جائے تو اس سال اینٹرٹینمنٹ شائقین کی پسند میں بھی تبدیلی نظر آئی، مداحوں کی بڑی تعداد نے آن لائن اینٹرٹینمنٹ اسٹریمنگ پلیٹ فارم کا رُخ کیا۔

میوزک آرٹسٹ ڈینو علی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران میوزک انڈسٹری سے وابستہ ہر فرد نے اپنے طور پر پاکستانی عوام کو سپورٹ کیا اور انہیں اینٹرٹین کیا، اُمید ہے نئے سال میں مزید کام ہوگا اور ملک کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کم از کم 6 ماہ تک مکمل طور پرمفلوج رہنے والی زندگی میں ہر جگہ کرونا کا خوف رہا اور تاحال زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی، تھیٹر اور سینیما بند ہوئے تو لوگوں نے میوزک ایپس اور یوٹیوب کے دروازے پر دستک دی، فراغت میں جہاں سننے والوں کو نئی موسیقی اور نئی آوازیں ملیں وہیں فنکاروں نے بھی اپنے مداحوں کو خوشی کے لمحے فراہم کئے ۔

موسیقار صنعان فزوانی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ میرے خیال میں 2020ء اچھا بھی تھا کیونکہ اس میں ہمارے پاس بہت وقت تھا، ہم سب گھر پر تھے، سب نے اپنے گھروں پر میوزک بنانا شروع کیا اور بہت اچھا میوزک نکلا، یہی وجہ ہے کہ انفرادی طور بہت میوزک ریلیز کیا گیا۔

پاکستانی میوزک پلیٹ فارمز کے حوالے سے بات کریں تو سب سے پہلے ذہن میں کوک اسٹوڈیو کا نام آتا ہے جس نے گزشتہ 13 سالوں سے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے، ہر سال کوک اسٹوڈیو کے سیزن کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے، رواں برس کرونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث اس میوزک شو کو بھی ملتوی کرنا پڑا اور عام طور اگست میں شروع ہونیوالے کوک اسٹوڈیو کا آغاز اس بار دسمبر میں ہوا، جس کو کوک اسٹوڈیو کے پروڈیوسر روحیل حیات نے اسپیشل سیزن کا نام دیا۔

ایک انٹرویو میں روحیل حیات کا کہنا تھا کہ اس سیزن میں پرانے گانوں کے ری میک کے بجائے اصل گانوں کو پیش کیا جائے گا۔

اس سال کوک اسٹوڈیو کے ساتھ ایک اور میوزک پلیٹ فارم ’’ویلو ساؤنڈ اسٹیشن‘‘ متعارف کروایا گیا جسے ’’اسٹرنگز‘‘ بینڈ کے بلال مقصود اور سعد حیات نے پروڈیوس کیا تھا، اس شو میں پرانے گانوں کو ری میک کرکے نئے انداز میں پیش کیا گیا تاہم یوٹیوب کے ویوز سے دیکھا جائے تو ’’ویلو ساؤنڈ اسٹیشن‘‘ نے پہلے ہی سیزن میں عوام کے دل جیل کر کافی مقبولیت حاصل کرلی۔

سینئر اینٹرٹینمنٹ رپورٹر رافع محمود کا کہنا تھا کہ ویلو ساؤنڈ اسٹیشن نے اپنے گانے مارکیٹنگ کے ذریعے زبردستی شائقین کو سنائے ہیں تاہم ان کے مطابق اس سال کا سب سے وائرل گانا ویلو سیزن میں عمیر جسوال کے گانے ’گھاگر‘ نے لوگوں کو ناچنے میں لگادیا یا یوں کہیں کہ ارطغرل غازی کے ٹائٹل سانگ کے بعد سب سے زیادہ یہ گانا سنا گیا۔

کوک اسٹوڈیو سیزن 2020ء کے پروڈیوسر روحیل حیات نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں موسیقار بلال مقصود کے نئے میوزک شو کو سراہتے ہوئے اس کی تعریف کی۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں رافع محمود کا کہنا تھا کہ میوزک وہ واحد چیز تھی جس پر لاک ڈاؤن کا اثر نہیں ہونا تھا، میوزک کا وباء سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس سال جو میوزک پلیٹ فارمز شروع ہوئے اسے 5 سال پہلے ہوجانا چاہئے تھا کیونکہ اس کی بنیاد سب سے پہلے کوک اسٹوڈیو نے رکھی اور اس سال کوک اسٹوڈیو نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ ہم بجائے لوک اور ری میک کے اصل گانے پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2020ء میں ہمیں اچھا میوزک سننے کو ملا حالانکہ ہمیں ایک جیسے چہرے کئی شوز میں نظر آئے تاہم اب گانوں کی مقبولیت سے اندازہ مشکل ہے کیونکہ گانوں کو پروموٹ کرکے زبردستی سنایا جاتا ہے۔

ان برانڈز کی آپسی جنگ میں سننے والوں کا فائدہ بھی نظر آیا کہ کیونکہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کیلئے مختلف انداز میں نے شمار میوزک سامنے آیا۔

کوک اسٹوڈیو سے شہرت حاصل کرنیوالی گلوکارہ نتاشا بیگ نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں گلوکاروں اور موسیقاروں کو خود مختار ہونا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کوئی مستقل سسٹم نہیں ہے، اس سال ہر کسی کا نقصان ہوا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مشکل حالات میں کسی نے ہمت نہیں ہاری اور بہت سارے فنکاروں نے اپنے طور کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو اس چیز کا اندازہ نہیں ہوتا کسی بھی آرٹسٹ کیلئے اس میں ایک چیز پیش کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

اس کے ساتھ ہی اس سال ایک اور برانڈ ’’بسکونی میوزک‘‘ کے نام سے میوزک پلیٹ فارم لانے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم یہ میوزک شو نئے سال 2021ء میں ریلیز کیا جائے گا۔

ویلو ساؤنڈ اسٹیشن کے پروڈیسر سعد حیات نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سال 2020ء میں لائیو پرفارم کرنیوالے فنکاروں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ ان کا فوکس محض کنسرٹ اور عوامی تقریبات پر ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں جب بہت سارے فنکاروں کے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا تو انہوں نے گانے لکھنا شروع کئے اور ان کی تخلیقی صلاحیت سامنے آئی اور ہم دیکھا کہ اس کی وجہ سے سننے والوں کی توجہ بھی اس سال زیادہ تھی۔

pop music

pakistani music

Tabool ads will show in this div