نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: 35لاکھ روپے قرض پرگھر ملنا مشکل

شہریوں نےرقم کوانتہائی کم قراردےدیا
Dec 31, 2020

NPHS Problem

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/NPHS-Problems-Pkg.mp4"][/video]

وفاقی حکومت اپنا گھر بنانے کے لیے عوام کو 125 گز کے گھر کے لیے 35 لاکھ روپے تو دے رہی ہے ليکن اس قيمت ميں گھر ملنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

سماء کے سروے کے مطابق کسی بھی شہر ميں اس قيمت ميں تو نيا گھر ملنا مشکل نظر آتا ہے کيونکہ اگر بڑے شہر ميں اس قيمت ميں گھر مل بھی جائے تو وہاں پانی، بجلی اور گيس میسر نہیں ہوتی۔

نيا پاکستان ہاؤسنگ اسکيم کے تحت قرض تو مل رہا ہے مگر گھر نہیں مل رہا۔ اسکیم کے تحت 120 گز یا 5 مرلہ یا پھر 240 گز اور 10 مرلہ کے گھر پر قرضہ ليا جا سکتا ہے۔ 120 گز کے کيس ميں گھر کی زیادہ سے زیادہ قیمت 35 لاکھ روپے ہو، کورڈ ایریا 850 اسکوائر فٹ ہو اور سب سے اہم بات وہ گھر برینڈ نیو ہو اور پہلی بار بیچا جا رہا ہو۔

اس کے علاوہ 240 گز یا 10 مرلہ کے کیس میں گھر کی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 لاکھ روپے، کورڈ ایریا 1100 اسکوائر فٹ اور یہاں بھی گھر ایک سال سے زیادہ پرانا نہیں ہوسکتا۔

ویڈیو: 120گز کے مکان پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے؟

سروے کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور اور کوئٹہ کے کم آباد علاقوں ميں بھی 5 لاکھ ميں 120 گز کا پلاٹ نہيں ملتا۔

عام طور پر 5 مرلہ یا 120 گز پلاٹ کا رقبہ 1000 سے 1100 اسکوائر فٹ ہوتا ہے اور کوئی بلڈر اتنے چھوٹے سے پلاٹ ميں 20 فيصد جگہ خالی نہيں چھوڑتا۔

دوسرا اہم مسئلہ يہ ہے کہ آج کل گھروں کی کم از کم تعمیراتی لاگت 2000 روپے فی اسکوائر فٹ ہے۔ اس حساب سے 1000 اسکوائر فٹ جگہ کو تو بنانے میں ہی 20 لاکھ خرچ ہوجائیں گے اور باقی بچے 15 لاکھ روپے تو اتنے ميں پلاٹ شہر سے دور کسی ويرانے ميں ہی مل سکتا ہے۔

دوسری جانب شہریوں نے گھر کے حوالے سے اس رقم کو انتہائی کم قرار دیا ہے۔

NAYA PAKISTAN HOUSING

Tabool ads will show in this div