آئی جی کا اغوا: رپورٹ پبلک نہ کرنے کا فیصلہ

سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش

سندھ کابینہ نے آئی جی سندھ کے اغوا اور کیپٹن صفدر کی غیرقانونی گرفتاری سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی پر غیرقانونی اور جعلی مقدمے کے اندراج کیلئے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلی ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرا، مشیران، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ اور متعلقہ سکریٹریوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی صوبائی وزارتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بعض وفاقی وزراء اور پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مزار قائد کے احاطے میں نعرے لگانے کے الزام میں کپتان صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے پولیس پر دباؤ ڈالا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزار کے اندر جو کچھ بھی ہوا، وہ مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن وفاقی حکومت (کچھ وزرا) اور پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی ایز کی جانب سے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا۔ آخر کار ایک "ملزم" شخص کی جعلی شکایت پر جو مزار میں موجود نہیں تھا، کیپٹن صفدر کے خلاف پولیس مقدمہ درج کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق19  اکتوبر کو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے دوران بھی ’چادر اور چاردواری‘ کا تقدس پامال کیا گیا جو ایک غیر قانونی فعل تھا۔

رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ آئی سندھ پولیس مشتاق مہر کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کا معاملہ آرمی چیف نمٹا چکے ہیں۔

کابینہ نے وزارتی کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کا فیصلہ کیا مگر یہ طے ہوا کہ وفاقی حکومت کو سندھ میں پولیس کے معاملات میں وزراء اور ایم پی اے کی مداخلت سے آگاہ کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت سے اپیل کی جائے گی کہ وہ اس معاملے میں ملوث اپنے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرے۔

IG Sindh Police

Tabool ads will show in this div