یتیم لڑکی کی تعلیم کیلئے بےفارم جاری کرنے کا حکم

خالہ کے شناختی کارڈ پر فارم جاری کیا جائے
Dec 23, 2020
[caption id="attachment_2066656" align="alignnone" width="800"]Sindh-High-Court-1 فوٹو: سماء ڈیجیٹل[/caption]

سندھ ہائی کورٹ نے یتیم لڑکی کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے نادرا کو ب فارم جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

بدھ 23 دسمبر کو یتیم طالبہ کو نادرا کی جانب سے ب فارم جاری نہ کرنے کے معاملے پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے لڑکی کو خالہ کے شناختی کارڈ پر 10 روز میں ب فارم جاری کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے وکیل بورڈ آفس سے استفسار کیا کہ ایڈمٹ کارڈ کے لیے بے فارم کیوں ضروری ہے؟ وکیل بورڈ آفس نے جواب میں بتایا کہ بچے کی شناخت کے لیے ب فارم ضروری ہے۔

وکیل نادرا نے بتایا کہ عدالت حکم دے تو بے فارم  بنانے کے لیے تیار ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ نادرا نے ب فارم جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے میٹرک بورڈ نے ایڈمٹ کارڈ روک دیا۔ لڑکی کا کوئی وارث نہیں مختلف رشتہ داروں کے گھر میں رہتی ہے، 3ماہ کی عمر میں والد اور 3 سال کی عمر میں والدہ انتقال کر گئیں۔

ایڈوکیٹ عثمان فاروق نے بتایا کہ بے سہارا لڑکی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے لیکن نادرا نے والدین کے بغیر ب فارم جاری کرنے سے انکار کردیا۔ لڑکی کو ب فارم اور ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔

ORPHAN

Tabool ads will show in this div