کالمز / بلاگ

بھارت کی شکست، گھر کے شیر ایڈیلیڈ میں ڈھیر

آسٹریلیا نے بھارت کو 36کے ریکارڈ کم اسکور پرآؤٹ کیا
فوٹو: گیٹی امیجز
فوٹو: گیٹی امیجز
[caption id="attachment_2134739" align="alignnone" width="800"] فوٹو: گیٹی امیجز[/caption]

گھر کے شیر بھارتی کرکٹ ٹیم کو ایڈیلیڈ اوول کرکٹ گراؤنڈ پر 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں ڈھائی دن میں ہی آسٹریلیا کے ہاتھوں 8 وکٹوں سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ٹیسٹ کئی ریکارڈ کے حوالے سے بھی یادگار رہے گا۔ میچ کے تیسرے روز آسٹریلوی فاسٹ بولرز کی جوڑی بھارتی بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹی جن کی تباہ کن بولنگ کے سامنے بھارتی ٹیم دوسری اننگز میں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اپنے ریکارڈ کم ترین اسکور پر ڈھیر ہو گئی۔ بھارتی کے 9 کھلاڑی صرف 36 رنز پر پویلین لوٹ گئے تھے جبکہ پیٹ کمنز کی برق رفتار گیند کلائی پر لگنے سے فاسٹ بولر محمد شامی ریٹائر ہرٹ ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں پوری ٹیم کو آؤٹ قرار دے دیا گیا تھا۔ محمد شامی کلائی میں فریکچر کی وجہ سے پوری سیریز سے آؤٹ ہوگئے۔ اس طرح بھارتی ٹیم کو باقی تین ٹیسٹ میچوں میں اپنے دو اہم کھلاڑیوں کپتان ویرات کوہلی اور محمد شامی کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔ آسٹریلیا کو میچ جیتنے کیلئے 90 رنز کا ہدف ملا تھا جو اس نے دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا اور ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سیریز میں ناصرف ایک صفر کی سبقت حاصل کر لی بلکہ اس گراؤنڈ پر 2018-19 میں بھارت کے ہاتھوں ٹیسٹ میں شکست کا حساب بھی چکا دیا۔ ایڈیلیڈ اوول پر بھارت کے خلاف آسٹریلیا کی یہ آٹھویں کامیابی تھی۔ بھارت اس گراؤنڈ پر صرف دو ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب ہو سکا جبکہ تین ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔ بھارتی ٹیم کو مزید تین ٹیسٹ کھیلنے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ میلبورن میں 26 دسمبر سے کھیلا جائے گا۔ بھارتی ٹیم کی اننگز 21.2 اوورز پر محیط تھی جس میں سے 10 اوورز میڈن تھے۔ ہیزل وڈ نے 6 اوورز تین میڈن آٹھ رنز دے کر پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ کمنز نے 10.2 اوورز میں 21 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔

بھارتی کرکٹ ٹیم ویرات کوہلی کی زیر قیادت میچوں میں ٹاس جیتنے کے بعد پہلی بار شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ سے پہلے کوہلی کی کپتانی میں 2015 سے 2020 کے دوران  25 میچوں میں ٹاس جیتنے کے بعد بھارت نے 21 میچ کامیابی حاصل کی اور چار ٹیسٹ ڈرا ہوئے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوہلی کی کپتانی میں بھارتی ٹیم کو مسلسل تین ٹیسٹ میچز میں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ اس سے قبل فروری 2020 میں بھارتی کرکٹ ٹیم کو بیسن ریزرو ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ نے 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ نیوزی لینڈ نے بھارت کو ہیگلی اوول کرائسٹ چرچ پر دوسرے ٹیسٹ میں سات وکٹوں سے زیر کیا تھا۔ اس طرح 2015 کے بعد یہ پہلا سال ہے جب بھارت کوہلی کی کپتانی میں پہلی بار سال میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیت پایا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیائے کرکٹ کا شیڈول تلپٹ ہوکر رہ گیا تھا۔ بھارتی ٹیم نے سال میں تین ٹیسٹ کھیلے اور تینوں میں شکست اس کا مقدر بنی۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ٹیم کے 11 بلے باز اور فاضل رنز بھی ڈبل فیگر میں داخل نہیں ہو سکے۔ بھارتی بیٹسمین میانک اگروال 9 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر تھے۔ تاہم اس سے قبل ایک بار ایسا ہوا تھا جب ٹیم کے 11 بلے باز تو ڈبل فیگر میں داخل نہیں ہوسکے تھے لیکن فاضل رنز ڈبل فیگر میں تھے۔ یہ ٹیسٹ میچ 1924 میں اییجبسٹن کے گراؤنڈ پر انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلا گیا تھا جس میں جنوبی افریقی ٹیم صرف 30 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی اور اس مجموعے میں 11 رنز فاضل (ایکسٹرا) تھے۔ جنوبی افریقہ کے اوپنر اور کپتان ہربی ٹیلر 7 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر تھے جبکہ انگلش بولر آرتھر گلیگن نے 6.3 اوورز میں صرف 7 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین کارکردگی بھی تھی۔ دوسری اننگز میں بھی انہوں نے 83 رنز دیکر پانچ وکٹیں لی تھیں۔ میانک اگر وال نے اپنی 19 ویں ٹیسٹ اننگز میں 1000 رنز کا سنگ میل عبور کیا وہ یہ کارنامہ انجام دینے بھارت کے تیسرے تیز ترین بلے باز ہیں۔ ونود کامبلی نے 14 ویں اور چتیشور پوجارا نے 18 ویں ٹیسٹ اننگز میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

بھارتی کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے والے برق رفتار بولر ہیزل وڈ اور کمنز نے اس اننگز کے دوران بالترتیب اپنی 200 اور 150 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ کمنز کی 150 وکٹ بھاتی کپتان کوہلی تھے جنہیں گرین نے کیچ آؤٹ کیا تھا۔ پیٹ کمنز نے اپنے 31 ویں ٹیسٹ میں اس سنگ میل تک پہنچے اور  وہ ڈینس للی‘ شین وارن اور اسٹیورٹ میکگل کے ہم پلہ ہو گئے تاہم سب سے کم ٹیسٹ میں 150 وکٹیں حاصل کرنے والے آسٹریلوی بولر کلیری گریمٹ ہیں جنہوں نے 28 ٹیسٹ میچز میں یہ سنگ مل عبور کیا تھا۔ ہیزل وڈ نے بولنگ اسپیل کے آغاز سے صرف 25 گیندوں میں پانچ بھارتی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ بولنگ اسپیل شروع کرنے پر سب سے کم گیندوں پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ آسٹریلیا کے ارنی توشک نے بھارت کے خلاف 1947-48 میں برسبین ٹیسٹ میں قائم کیا تھا جب انہوں نے صرف 19 گیندوں پر پانچکھلاڑیوں کو پویلین بھیج دیا تھا۔ توشک کے اس ریکارڈ کو انگلش فاسٹ بولر اسٹیورٹ براڈ نے 2015 ء کے ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں برابر کیا تھا جب انہوں نے پانچ آسٹریلوی بیٹسمین اپنا بولنگ اسپیل شروع کرنے کے بعد صرف 19 گیندوں میں آؤٹ کر دیئے تھے۔ ہیزل وڈ نے ایشون کو آؤٹ کر کے اپنی 200 ویں  ٹیسٹ  وکٹ اپنے 52 ویں ٹیسٹ میں حاصل کی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ نے حریف ٹیموں کو ٹاپ 10 کم ترین اسکور پر سب سے زیادہ آؤٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔  انگلینڈ  نے سات مرتبہ حریف ٹیموں کو ٹیسٹ اننگز میں کم اسکور پر آؤٹ کیا جنوبی افریقہ ٹاپ 10 کم اسکور پر آؤٹ ہونے والی ٹیموں میں سب سے نمایاں ہے۔ جنوبی افریقہ 4 مرتبہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا 2،2 مرتبہ بھارت اور آئرلینڈ کی ٹیمیں ایک ایک مرتبہ کم اسکور پر آؤٹ ہوئیں۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 36 رنز اننگز میں بھارت کا ریکارڈ کم ترین اسکور ہے اس سے پہلے1974 میں لارڈز ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم انگلینڈ کے خلاف 42 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی یہ بھی ایڈیلیڈ اوول ٹیسٹ کی طرح میچ کی تیسری اننگز تھی لیکن اس میچ میں بھارتی ٹیم فالو آن کے بعد اننگز کھیلی تھی۔ بھارتی ٹیم 1947 میں آسٹریلیا کے خلاف 58 رنز‘ 1952 میں انگلینڈ کے خلاف مانچسٹر ٹیسٹ میں 58 رنز اور ڈربن ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 66 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم اسکور پر آوٹ ہونے کا ریکارڈ نیوزی لینڈ کا ہے جو مارچ 1955 میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف 26 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ اس کے بعد جنوبی افریقن ٹیم دو مرتبہ انگلینڈ ہی کے ہاتھوں 30 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ پہلی مرتبہ فروری 1896 میں پورٹ ابلزبتھ اور پھر جون 1924 میں برمنگھم ٹیسٹ میں 30 نز پر ڈھیر ہوئی۔ یکم اپریل 1899 کو بھی انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو 35 رنز پر آؤٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ 12 فروری 1932 کو میلبورن ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کو 36 رنز پر پویلین بھیج دیا تھا۔ 29 مئی 1902 کو برمنگھم ٹیسٹ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو 36 رنز پر آؤٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ جولائی 2019 میں انگلینڈ نے آئرلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ میں 38 رنز پر جبکہ آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو مارچ 1946 میں ویلنگٹن ٹیسٹ میں 42 اور فروری 1888 میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو سڈنی ٹیسٹ میں 42 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا۔

یہ ٹیسٹ مچ ہیزل وڈ اور پیٹ کمنز کے ہاتھوں بھارتی بلے بازوں کا قتل عام تھا۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھارتی شکست کے حوالے سے ایک ٹوئیٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے لکھا کہ جب میں صبح سو کر اٹھا تو میں نے ٹی وی اسکرین پر اسکور دیکھا تو مجھے ایسا لگا کہ اسکور 369 ہے جس پر مجھے یقین نہیں آیا تو میں نے جا کر اپنی آنکھیں دھوئیں اور پھر واپس آکر اسکور کارڈ دیکھا تو پتہ چلا کہ 36 پر 9 کھلاڑی آؤٹ ہیں۔ مجھے اس پر بھی یقین نہیں آیا پھر میں لمبی تان کر سو گیا۔ بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کمنٹیٹر سجنے منجریکر کا کہنا تھا کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی دوسری اننگز کی تباہ کن صورت حال لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت کو اپنی بیٹنگ پرفارمنس پر توجہ دینے کی سنجیدگی سے ضرورت ہے اگر اس کی گزشتہ تین ٹیسٹ مبیچز کی اننگز کو دیکھا جائے تو وہ متاثر کن نہیں ہیں ان میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ کی 4 اننگز میں اسکور 124، 242، 191، 161 اور آسٹریلیا کے خلاف اس ٹیسٹ میں 244,36 رہا ہے۔ بھارتی ٹیم کو اپنے دفاعی سکلز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے کرکٹ مینجمنٹ کو فوری اقدامات کرنے چاہیں اور لانگ ٹرم پلاننگ کرنی چاہیے۔

کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ انہیں اس ٹیسٹ کے نتیجے سے مایوسی ہوئی ہے۔ ہماری ٹیم نے پہلی اننگز میں میزبان پر 53 رنز کی سبقت حاصل کر لی تھی۔ بھارت کی یہ برتری مزید ذیادہ ہو سکتی تھی اگر اس کے کھلاڑی کیچ ڈراپ نہ کرتے۔ بھارتی فیلڈرز نے کئی کیچ ڈراپ کیے۔ آسٹریلوی بلے باز لبوشین کو 47 کے اسکور میں تین زندگیاں ملیں جبکہ کپتان ٹم پین کا کیچ 26 رنز پر ڈراپ ہوا جس کے بعد انہوں نے مزید 47 رنز کا اضافہ کیا اور 73 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ انہوں نے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر ٹیم کا اسکور بڑھایا۔ کوہلی کا کہنا تھا کہ وہ پر امید تھے کہ اگر بھارتی ٹیم 225 کا ہدف بھی دیتی ہے تو ہم گزشتہ سیریز کی فاتحانہ کارکردگی کو دہرا سکتے تھے لیکن دوسری اننگز میں بیٹنگ لائن کی ناکامی  نے کوہلی کا سارا خواب چکنا چور کر دیا۔ بھارت کی پہلی اننگز میں کپتان ویرات کوہلی کا رن آؤٹ ہونا بھی ٹیم کیلئے بہت بھاری ثابت ہوا کیونکہ کوہلی کی وکٹ گرنے کے بعد بھارت کی دونوں اننگز میں 17 وکٹیں صرف 91 رنز کے اضافے پر گر گئی تھیں۔ بیرون ملک بھارتی ٹیم پہلی بار ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلی تھی۔ کوہلی کا کہنا تھا کہ مجھے توقع ہے کہ میری عدم  دستیابی کے باوجود بھارتی ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم بیک کرے گی۔ تاہم انہوں نے محمد شامی کے زخمی ہونے کو بھارتی پیس اٹیک کیلئے بڑا نقصان قرار دیا جو آسٹریلوی باؤنسی وکٹوں پر موثر بھارتی ہتھیار تھے۔

Tabool ads will show in this div