اسلام آباد:ڈاکٹروں کا کروناوارڈ میں کام بندکرنے کا انتباہ

وارڈ میں 130 مریض داخل
Dec 19, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/pims-protest-19-12.mp4"][/video]

نئے حکومتی قانون کے خلاف پمز اسپتال کے ملازمين کا احتجاج 20 روز سے جاری ہے۔ طبی عملے نے بات نہ سننے پر کرونا وارڈ میں کام بند کرنے کی دھمکی دے دی۔

حکومت نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں بھی خیبرپختونخوا کے اسپتالوں کی طرح اصلاحات کا آغاز کیا ہے اور اس قانون کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن آرڈیننس کا نام دیا گیا ہے۔ مگر اس قانون پر ڈاکٹروں کو تحفظات ہیں اور وہ اس سلسلے میں 20 دن سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

ہفتے کو احتجاجی ڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین اسفندر یار نے کہا کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کے باعث کرونا وارڈ میں مامور ڈاکٹرز ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ آرڈیننس فوری واپس نہ لیا گیا تو کرونا وارڈ میں کام بند کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پمز کے کورونا وارڈ میں 130 مریض زیر علاج ہیں جن میں بیس کی حالت تشویشناک ہے۔ کسی بھی مریض کی جان گئی تو ذمہ دارحکومت ہوگی۔

Health Workers

Tabool ads will show in this div