جعلی قیدی کا کیس،جعلسازی کرنےوالاکسی معاوضے کا حقدارنہیں،عدالت

جعلی یا نقلی ملزم عبداللہ شر تھا۔
Dec 18, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/SHC-Mehrab-Shar-Case-18-12.mp4"][/video] Sindh-High-Court-1

عدالت نے جعلی قیدی سے متعلق کیس نمٹا دیا اور ریمارکس دئیے کہ جعل سازی کرنےوالاکسی معاوضےکاحقدارنہیں ہوسکتا۔

جمعہ کوسندھ ہائی کورٹ میں جعلی قیدی سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ڈی آئی جی سکھرکی انکوئری رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ محراب شر کی جگہ عبداللہ شر کو رکھنے سے پراسکیوشن کا کیس کمزورہوگیا۔عدالت کوبتایا گیا کہ ملزم محراب شر نے گرفتاری دے دی جبکہ جعلی یا نقلی ملزم عبداللہ شر تھا۔ عبداللہ شر کو جعلی ملزم ہونے کےباوجود تین برس قید میں رکھا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ برطرف ہونے والے 17 ہیڈ کانسٹیبل،کانسٹیبل و دیگر اہلکار شامل ہیں اوربرطرف پولیس اہلکاروں نے بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ عدالت نےبرطرف اہلکاروں کو متعلقہ قانونی فورم سےرجوع کرنےکی ہدایت کی۔ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ پولیس نےعبداللہ شر کو گرفتار نہیں کیا اور نے جعلی شناختی کارڈ بنواکرخود گرفتاری دی۔ایڈووکیٹ جنرل نےمزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو15دسمبر کوشوکازجاری کیا،16کو برطرف کردیا۔

 عدالت نے حکم دیا کہ جعلی ملزم کو قید میں رکھنے پر تمام متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور معاوضہ ادا کیا جائے۔عدالت نےبرطرف اہلکاروں کو متعلقہ قانونی فورم سےرجوع کرنےکی ہدایت کی۔

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عبداللہ شر خود ہی نادرا کے دفتر گیا اورخود محراب شر کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بنوایا اور خود ہی گرفتاری دی اور جیل جانےکےبعدعبداللہ نےکہاوہ محراب شرنہیں ہے،پولیس اہلکاروں کا کوئی قصور نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ ملزم معاوضہ کا حق دار نہیں ہے بلکہ جعلسازی پر اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔عدالت نے فیصلہ کیا کہ جعل سازی کرنےوالاکسی معاوضےکاحقدارنہیں ہوسکتا، عدالت نے جعلی قیدی سے متعلق کیس نمٹا دیا۔

SINDH HIGH COURT

Tabool ads will show in this div