مسلمانوں کیلیے بھارت خطرناک ملک بن گیا

ساؤتھ ایشیا اسٹیٹ آف مینارٹیز کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف
Dec 17, 2020
فوٹو: ٹوئٹر
فوٹو: ٹوئٹر
[caption id="attachment_2131004" align="alignnone" width="800"] فوٹو: ٹوئٹر[/caption]

جنوبی ایشیا میں شہری آزادیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ساؤتھ ایشیا اسٹیٹ آف مینارٹیز کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت مسلمانوں کے لیے خطرناک اور پرتشدد جگہ بن چکا ہے۔

رپورٹ میں بھارتی حکومت سے متعلق انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی شہریوں کے لیے قومی رجسٹرڈ مسلمانوں کو ممکنہ طور پر اسٹیٹ لیس بناسکتا ہے۔ اسی تناظر میں بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ریاستی اداروں اور ان کے اتحادی گروہوں کی جانب سے دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ساؤتھ ایشیا اسٹیٹ آف مینارٹیز کی 349 صفحات پر شتمل رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں ٹی وی پرسنسرشپ کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں اورحکومت پرتنقید کرنے والے چینلز کوبند کیا جا چکا ہے جبکہ ’فارن کنٹریبیوشن ایکٹ‘ ترقی پسند اقلیتی این جی اوز کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

فروری میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات سے متعلق بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا اور مارچ میں کرونا وائرس کی وبا کے ابتدائی دنوں میں پھیلائی جانے والی نفرت‘ پربھی توجہ دلائی گئی۔

رپورٹ میں باقی جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی اسی قسم کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں حکومتوں کی جانب سے ’آزادی اظہار کے حقوق اوراجتماع کے حقوق کو قانون کا استعمال کرکے ان حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

indian muslims

Tabool ads will show in this div