جبری گمشدگیوں کے قانون میں سخت سزائیں تجویز کریںگے،شیریں مزاری

ریپ آرڈینس ضروری تھا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Dr-Shireen-Mazari-Human-Rights-Interview-Isb-16-12-1.mp4"][/video]

وفاقی وزیرشیریں مزاری نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کو جنسی درندوں سے بچانے کیلئے اینٹی ریپ آرڈیننس ناگزیر تھا۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیرشیریں مزاری نےنمائندہ سماء ظہیرعلی خان کو خصوصی انٹرویو میں بتایا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ ہیں تاہم وہ اہم نوعیت کے مسائل پر مشاورت کے بجائے جلسوں میں مصروف ہیں اور انسانی حقوق کمیٹی بل ڈسکس ہی نہیں کرتی ۔ انھوں نے کہا کہ زینب الرٹ جیسا اہم بل بھی اسی وجہ سے 9 ماہ تاخیر سے پاس ہوا۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پرانے قوانین میں گواہوں اورمتاثرین کا تحفظ نہیں تھا،اینٹی ریپ آرڈیننس بہت ضروری تھا۔وفاقی وزیربرائےانسانی حقوق نے بتایا کہ جبری گمشدگیوں کے قانون میں سخت سزائیں تجویزکریںگے،تعزیرات پاکستان میں ترمیم کیلئےوزیراعظم نےکمیٹی بنادی۔انھوں نے کہا کہ اپنےقانون مضبوط کریں، بندوں کوغائب کرنا درست نہیں۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق کا مزید کہنا تھا کہ اب بچوں کی ویڈیوز ڈارک ویب پر ڈالنا جرم ہے اور 2فنگرٹیسٹ سےخواتین کااستحصال ہورہا تھا اس لئےاسےختم کردیا ہے۔

Tabool ads will show in this div