پاکستان پریس فریڈم میں افغانستان، انڈیا سے بھی نیچے گرگیا

ڈیپ اسٹیٹ ذمہ دار قرار
Dec 15, 2020

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز ( آر ایس ایف) نے دنیا بھر کے 180 ممالک کی پریس فریڈم انڈیکس جاری کردی ہے جس کے تحت پاکستان گزشتہ برس کے مقابلے میں 3 پوائنٹس نیچے گرگیا ہے جبکہ رواں سال 4 صحافی قتل ہوئے ہیں۔ افغانستان کی درجہ بندی پاکستان کے مقابلے میں 23 پوائنٹس بہتر ہے۔

پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں میڈیا کو حاصل آزادیوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور ان آزادیوں کی بنیاد پر ان ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ اس فہرست میں جو ملک جتنا پیچھے جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس ملک میں میڈیا کی آزادی اتنی سلب ہوچکی ہے۔

انڈیکس کے مطابق سب سے زیادہ آزادیوں کے ساتھ ناروے نمبر ون جبکہ شمالی کوریا سب سے پیچھے یعنی 180 ویں نمبر پر ہے۔ ہماڑے پڑوسی ممالک میں افغانستان 122 اور انڈیا 142 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان ان دونوں سے بھی بدتر یعنی 145 ویں نمبر پر چلاگیا۔

آر ایس ایف نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے پیچھے ’ڈیپ اسٹیٹ‘ اور اس سے جڑے خفیہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور یہ بھی قرار دیا ہے کہ 2018 میں عمران خان کے اقتدار میں آںے کے بعد میڈیا پر ’اسٹیبلشمنٹ‘ کے اثر و رسوخ میں ڈرمائی اضافہ ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں ان ہتھکنڈوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے ذریعے میڈیا کو دبایا جاتا ہے۔ ان میں اخبارات کی سرکولیشن روکنا، میڈیا مالکان کو اشتہارات رکوانے کی دھمکی دینا اور اپوزیشن رہنماؤں کو کوریج نہ دینے کیلئے دباؤ ڈالنا، صحافیوں کا اغوا اور اپوزیشن کے انٹرویوز کے دوران چینلز کو جام کردینا شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روایتی میڈیا کو قابو کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو بھی لگام ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے قوانین بنانے اور ان پر عملدرآمد تیز کردیا گیا ہے۔

آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ دونوں صوبوں میں صحافی عسکریپ پسند اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ گزشتہ برس بھی چار صحافیوں اور ایک بلاگر کو قتل کیا گیا مگر کسی ملزم کو سزا نہ مل سکی۔