چالیس ہزار روپے والے پرائزبانڈ کیش کرانیکی تاریخ میں توسیع

اسٹیٹ بینک نے نئی تاریخ 31دسمبر 2021ء مقرر کردی
Dec 11, 2020

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 40 ہزار روپے والے پرائز بانڈ کیش کرانے کی مہلت میں ایک سال کا اضافہ کردیا، بانڈز رکھنے والے صارفین اب 31 دسمبر 2021ء تک اپنے بانڈز کیش یا تبدیل کراسکیں گے۔

حکومت نے جون 2019ء میں سب سے بڑی قیمت والے پرائز بانڈز ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم لوگوں کو اجازت دی گئی تھے وہ اپنے پرائز بانڈز 31 مارچ 2020ء تک کراسکتے ہیں، مزید ایک سال کی مہلت دیئے جانے سے قبل کیش کرانے کی تاریخ میں دسمبر 2020ء تک اضافہ کیا گیا تھا۔

حکومت کی نئی پالیسی ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ روکنے کی مہم کا حصہ ہے، پاکستان کیلئے فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے عالمی ادارے نے غیرقانونی رقم جو دہشت گردی اور منشیات کے کاروبار میں استعمال ہوتی ہے، کو روکنے کی شرط رکھی تھی۔ چونکہ پرائز بانڈز نقد رقم کی طرح کام کرتے ہیں اور ٹیکس چوروں کیلئے ان کی بلیک منی کو وائٹ کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں، تاہم حکومت نے زیادہ مالیت والے پرائز بانڈز کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت نے رواں ماہ کے پہلے عشرے میں 25 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز بھی عارضی طور پر بند کردیئے، جنہیں کیش کرانے کی آخری تاریخ 31 مئی 2021ء رکھی گئی ہے۔

چالیس ہزار روپے مالیت کا انعامی بانڈ حکومت کی جانب سے پیش کردہ 8 بانڈز میں سب سے مہنگا جبکہ 100 روپے والا بانڈ سستا ترین ہے۔

مزید جانیے : چالیس ہزار روپے والے پرائز بانڈز کی رجسٹریشن کا فیصلہ

ان بانڈز کو جاری کرنے سے حکومت کا مقصد اپنے شہریوں میں بچت کے کلچر کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، ساتھ ہی تاکہ بینکوں سے قرضے لینے کے مقابلے میں اس سرمایہ کاری کو اپنی ضروریات کیلئے استعمال کرنا ہے، جو زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔

اگر آپ کے پاس اس وقت یہ دونوں پرائز بانڈز موجود ہیں تو آپ انہیں کیش کرانے کے علاوہ اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس یا ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس سے تبدیل کراسکتے ہیں جبکہ تیسرے آپشن میں آپ انہیں اسی قیمت کے پریمیئم پرائز بانڈز سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ اس کا طریقۂ کار بہت آسان ہے۔ آپ بینک حبیب بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، نیشنل بینک پاکستان، مسلم کمرشل بینک، الائیڈ بینک لمیٹڈ یا بین الفلاح کی کسی بھی برانچ میں چلے جائیں یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 16 فیلڈ آفسز میں سے کسی بھی بینکنگ سروس کارپوریشن آفس جا کر یہ سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔

البتہ کو دیکھنا ہوگا کہ ان بینکوں کی کونسی برانچز اس معاملے کو ڈیل کررہی ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مرکزی بلڈنگ سمیت کراچی میں مرکزی بینک کے دو دفاتر کے ساتھ آپ نیشنل سیونگز کی 376 برانچوں میں سے ایک برانچ کا دورہ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پچیس ہزار روپے والے پرائز بانڈز عارضی طور پر بند

قطع نظر اس کے چالیس ہزار اور 25 ہزار کے پرائز بانڈز غیر فعال ہورہے ہیں، ان بانڈز کے پریمیئم ورژن کی انعامی رقم مزید بڑھادی گئی ہے ساتھ ہی اس پر سال میں دو بار فکسڈ منافع (حکومت کی جانب سے طے کردہ شرح منافع کی بنیاد پر) بھی دیا جائے گا۔ ایک بڑا فرق یہ ہے: پریمیئم بانڈز کو اس کے رکھنے والے کے نام پر رجسٹرڈ کرنا پڑتا ہے۔ (اس کی تفصیلات آخری پیراگراف میں موجود ہیں)۔

بانڈز کیوں بند کردیئے گئے؟

حقیقی سرمایہ کار ان بانڈز کو خریدنے میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ اس کی انعامی رقم کافی بڑی ہوتی ہے تاہم یہ ان لوگوں کا بھی پسندیدہ ہے جو ٹیکس کلیکٹر کو دھوکا دے کر اپنی غیرقانونی دولت کو صاف بنانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ٹیکس چوری کرتے ہیں۔

یہاں آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے: وہ پہلے کسی ایسے شخص سے جو بانڈز بیچنا چاہتا ہوں اس سے بانڈز خریدتے اور نقد رقم سے چھٹکارا پالیتے ہیں۔ اگر وہ یہ رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانا چاہیں تو انہیں بینک کو اس کا ذریعہ بتانا ضروری ہوتا ہے، جس سے وہ شخص مصیبت میں پڑسکتا ہے۔

اور جب ان کے پاس پرائز بانڈ ہوں تو وہ تجارتی بینکوں، اسٹیٹ بینک فیلڈ دفاتر یا قومی بچت کی شاخوں میں جمع اور کیش کرائے جاسکتے ہیں۔ یہ نقد حکومت کے تعاون سے پرائز بانڈ سے حاصل ہوتوتی ہے، اس طرح بینک میں جمع کرانا آسان ہوگا۔ اگر اس کے ذریعہ کا معلوم کیا جائے تو کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ رقم پرائز بانڈز فروخت کرکے حاصل کی گئی ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ یہ بانڈز کیسے کرنسی کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔ آپ 40 ہزار اور 25 ہزار روپے پرائز بانڈز کے بارے میں سوچ سکتے ہیں کیونکہ یہ پرائز بانڈز کسی بھی وقت کیش کرائے جاسکتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان بانڈز کو فروخت کرنے کیلئے سرکاری چینل کے ذریعے کیش کرانے کی پریشانی سے نہیں گزرنا چاہتے، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو جو نقد رقم ادا کردے اسے فروخت کردینا چاہتے ہیں۔ اور وہ جو اپنا کالا دھن سفید کرنے کیلئے کچھ زیادہ بھی دے سکتا ہو۔

مارکیٹ میں جو کیا جاتا ہے یہ اس کی ایک سادہ سی مثال ہے۔ عام طور پر ان بانڈز کے کیش ہونے سے قبل یہ ایک سے زائد بار بھی فروخت ہوچکے ہوتے ہیں (یہ بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں جاتا ہے)۔ کیونکہ بانڈز کسی کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں اس لئے ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت حکومت کیوں پریمیئم بانڈز پیش کررہی ہے، جو آپ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہوگا۔ اسی لئے حکومت نے 40 ہزار اور 25 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کو بند کرکے ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا ہے۔

Tabool ads will show in this div