پاکستان مذہبی آزادی سے متعلق امریکی بلیک لسٹ میں شامل

پاکستان نے اقدام مسترد کردیا

امریکا نے پاکستان اور چین سمیت متعدد ممالک کو مذہبی آزادی سے متعلق بلیک لسٹ میں شامل کردیا جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے امریکی لسٹ کی ساکھ کو مشکوک قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ ہرسال ان ممالک کی فہرست جاری کرتا ہے جن میں امریکا کے مطابق شہریوں کو مذہبی آزادیاں حاصل نہیں ہوتیں۔ مذہب کی بنیاد پر شہریوں پر ظلم ہوتا ہے اور اس کو اس کو منظم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

اس لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک کو متعدد پابندیوں کے ساتھ مختلف مدات میں امریکی امداد سے محروم ہونا پڑجاتا ہے مگر امریکی محکمہ خارجہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ چاہیں تو وہ کسی بلیک لسٹ ملک کی امداد جاری رکھ سکتے ہیں۔

امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز ٹوئٹر پر ان ممالک کا اعلان کیا جن میں برما، چین، اریٹیریا، ایران، نائیجیریا، شمالی کوریا، پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مذہبی آزادی سے متعلق ’تشویشناک ممالک‘ کی فہرست میں شامل کرنا زمینی حقائق کے منافی ہے اور پاکستان کا شامل ہونا اس فہرست کی ساکھ کے بارے میں شدید شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق بھارت کو اس لسٹ میں شامل نہ کرنے سے امریکی رپورٹ پر مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں جہاں آر ایس ایس، بی جے پی حکومت اور ان کے رہنما مذہبی آزادیون پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق ہندوستان میں مسلم اقلیت کے خلاف تشدد میں حکومت کا ملوث ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ہندوستان میں گاؤں رکھشک کے نام پر مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں پتھر مار مار کر قتل کیا جاتا ہے اور لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف محاذ گرم کیا گیا ہے۔

religious freedom

Tabool ads will show in this div