ڈیرہ اسماعیل خان: صحافی قیس جاوید گھر کے اندر قتل

نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

ڈیرہ اسماعیل خان کے معروف صحافی اور گومل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری قیس جاوید مسیح کو گھر کے دروازے پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی، تاحال قتل کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ کینٹ میں مقدمہ درج کراتے ہوئے مقتول کے خالہ زاد بھائی شریف مسیح نے پولیس کو بتایا کہ قیس جاوید مسیح مدینہ کالونی میں بلوچ چوک کے قریب اپنے گھر پہنچے تو ملزمان نے گھر میں گھس کر ان پر فائرنگ کردی، ان کو زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا مگر گولی آر پار ہونے کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکے۔

قیس جاوید کے ساتھی اور صحافی نصرت گنڈاپور نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ واقعے سے پہلے قیس جاوید مسیح نے ریجنل پولیس افسر سے ملاقات کی تھی جس میں مجھ سمیت دیگر صحافی بھی موجود تھے، وہاں سے وہ اپنے گھر چلے گئے تھے، جہاں واقعہ پیش آیا۔

نصرت گنڈاپور کے مطابق قیس جاوید گھر کے دروازے پر پہنچے تو بیٹے نے گیٹ کھولا، وہ موٹر سائیکل اندر لے گئے، بیٹا گیٹ بند کر رہا تھا کہ نامعلوم افراد گیٹ کو لات مار کر اندر داخل ہوئے، اس دوران قیس کا بیٹا گرگیا، ملزمان کی چلائی ہوئی 2 گولیاں قیس کو لگیں، ایک گولی پیٹ میں جبکہ دوسری سینے پر لگی۔

مقتول کی کمسن بیٹی کے مطابق قیس کی گھر آمد سے تھوڑی دیر قبل بھی کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جب اس سے باہر جاکر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔

ڈسٹرکٹ اور ریجنل پولیس افسران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔

مقتول صحافی نے بیٹا، بیٹی اور دو بہنوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ بیٹا 12 سال کا عہد اور بیٹی 7 سال کی شبینہ ہیں، قیس کے والدین کا بھی انتقال ہوچکا ہے جبکہ بیوی علیحدگی اختیار کرچکی ہیں۔

قیس جاوید مسیح ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام میں کافی مقبول تھے۔ اس کی وجہ ان کا ایک ڈیجیٹل نیوز چینل تھا، وہ اپنے بیٹے سے منسوب ’عہد نامہ‘ کے نام سے ایک ویب ٹی وی چلا رہے تھے جس کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز ہیں۔ وہ اپنے اس چینل کے ذریعے مقامی لوگوں کے مسائل اجاگر کرتے اور جہاں قانون کی خلاف ورزی ہوتی، اس کی نشاندہی بھی کرتے۔ اس سے قبل وہ 10 برس تک جیو نیوز کے رپورٹر کے ساتھ کیمرہ مین رہے۔

JOURNALIST

Tabool ads will show in this div