جامعہ کراچی کا2سالہ ڈگری پروگرام ختم نہ کرنےکا اعلان

یونیورسٹی کے27فیصد اخراجات ان ہی سے پورےہوتے ہیں
فوٹو: فیس بک
فوٹو: فیس بک
[caption id="attachment_2121554" align="alignnone" width="800"] فوٹو: فیس بک[/caption]

کراچی يونيورسٹی نے 2سالہ ڈگری ختم کرنے کا وفاق کا فيصلہ ماننے سے انکار کرديا۔

جامعہ کراچی کے ائس چانسلر خالد عراقی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی اپنے 27فیصد اخراجات ان ہی ڈگری اور ماسٹرز پروگرام سے پورا کرتی ہے۔

وائس چانسلر جامعہ کراچی نے مزید کہا کہ جب کالجز کا انفراسٹرکچر ہی نہيں بنا تو ايسے فيصلے کيوں ليے جارہے ہيں، اِس سے تعلیمی نظام بُری طرح متاثر ہوگا۔

سنڈیکیٹ کمیٹی کے رکن ایس ایم طحٰہ کہتے ہیں کہ نجی تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبا کو وفاقی تعليمی کميشن کے فیصلے سے بڑا دھچکا لگے گا۔

ایس ایم طلحٰہ نے مزید کہا کہ ایچ ای سی ادارہ صرف فنڈنگ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ریگولیٹ کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ انھوں نےکہا کہ جو بچہ پرائیویٹ جاب کرتا ہے نوکری کرتا ہے ساتھ پڑھتا ہے یہ اس لیے بوجھ ہوگا۔

جامع کراچی انتظامیہ کے مطابق دو سالہ ڈگری اور ایم اے پروگرام میں 70 ہزار طلبا اور طالبات انرولڈ ہیں۔ يہی وجہ ہے کہ جامعہ کراچی نے ایچ ای سی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے 2 سالہ ڈگری پروگرام کيلئے داخلے جاری رکھے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ دنوں ایچ ای سی کی جانب سے 2سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ ایچ ای سی نے 2018 کے بعد تمام 2 سالہ ڈگریاں غیر قانونی قرار دے دیں تھیں۔

ہائر ایجوکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اب کسی بھی کالج سے بی اے، بی کام اور بی ایس سی کی ڈگری نہیں ملے گی۔

ایچ ای سی کے مطابق 2018میں پابندی کے باوجود غیر قانونی پروگرام کا اجرا تشویشناک قرار دیا تھا اور نیورسٹیز کو فوری طور پر ایسے پروگرامز میں داخلے بند کرنے کا کہا تھا۔

یاد رہے کہ ایچ ای سی نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ 31 دسمبر 2018 کے بعد ایسی کسی ڈگری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

Tabool ads will show in this div