سیاسی ومذہبی عسکری گروہوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

وزارت داخلہ نے کارروائی کیلئے صوبوں کو مراسلہ لکھ دیا
Dec 07, 2020
فوٹو : اے ایف پی
فوٹو : اے ایف پی
[caption id="attachment_2120794" align="alignnone" width="800"] فوٹو : اے ایف پی[/caption]

ملک بھر میں سیاسی اور مذہبی عسکری گروہوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا۔ وزارت داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو فوری کارروائی کیلئے مراسلہ جاری کردیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری گروہوں نے باقاعدہ یونیوفارم پہن رکھا ہے، جس میں اہلکاروں کے رینکس کے بیجز بھی لگے ہوئے ہیں، یہ گروہ خود کو منظم فوج کی طرح پیش کرتے ہیں۔

مراسلے کے مطابق سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری گروہوں کا اس طرح قیام نیشنل ایکشن پلان کی شق 3 اور آئین کے آرٹیکل 256 کے منافی ہیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے مراسلے میں کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کا نام نہیں لیا گیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے اکتوبر 2019ء میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر پانبدی عائد کی تھی تاہم جے یو آئی ایف نے پابندی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رضا کار فورس الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔

مراسلے میں صوبوں سے کہا گیا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں ملیشیا کی موجودگی سیکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایسی تنظیمیں ملک میں غلط روایات پروان چڑھا رہی ہیں جس سے امن و امان کی صورتحال پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے قومی اور بین الاقوامی تشخص کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگز کیخلاف کارروائی میں صوبوں کی معاونت کیلئے تیار ہیں۔

Tabool ads will show in this div