فٹ پاتھ اور سڑکوں پرکھڑی لاوارث گاڑیوں کی دلچسپ کہانی

سماء ٹی وی کی خصوصی رپورٹ
Dec 07, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Lawaris-Gariyan-Khi-Pkg-07-12-Ayaz.mp4"][/video]

کراچی کے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر پڑی لاوارث کاریں اور موٹرسائیکلیں آخر کس کی ہیں۔ کیا یہ کسی دہشت گرد نے کھڑی کی ہیں یا کوئی چور انہیں یہاں چھوڑ گیا ہے۔ پولیس اس معاملے سے کیوں بے خبر ہے۔

کراچی کے ایک شہری عارف نے گھر کے سامنے پنجرہ کسی جانور کے لیے نہیں بلکہ اپنی موٹرسائیکل کے لیے بنوایا ہے۔ ڈیڑھ سال میں پانچ موٹرسائیکلیں گھر کی دہلیز سے چوری ہوئیں۔ اب عارف کی بس ہوچکی ہے۔

یا تو عارف کی بائیکیں شہر سے باہر اسمگل ہوگئیں یا ان کے کھوکے چار ہزار مربع کلومیٹر کے اس شہر میں کہیں دور پڑے ہوں گے۔۔

کراچی میں روزانہ 95 گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں چوری ہوجاتی ہیں۔ پچاس فیصد گاڑیاں اسمگل کردی جاتی ہیں۔ کچھ کھل کر فروخت ہوتی ہیں اورکچھ اس طرح سڑکوں پر پڑی ہیں۔

چور جب یہ گاڑیاں چھوڑ کر جاتے ہیں تو انہیں وہاں سے اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ رفتہ رفتہ ہیروئنچی ان کے پرزے بیچ کر کش لگا تے ہیں اور آخر میں ڈھانچہ چھوڑ کر نکل جاتے ہیں۔ پھر یہاں کتے بلیاں اپنے گھر بناتے ہیں اور کچرا کنڈی بن جاتی ہے۔ کوئی تو ان کا پنجرا اٹھا کر کھلے گٹر کے منہ پر دے مارتا ہے اور شہر کی بدصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔

رنچھورڑ لائن اور نیوکراچی چوری کے پرزوں کی بڑی منڈیاں ہیں۔ یہ سامان یہاں کیسے آتا ہے۔ کوئی کچھ نہیں بتاتا۔

سما کے کھوج لگانے پر پتہ چلا کہ پولیس میں ایسا کوئی محکمہ ہے ہی نہیں جو ان لاوارث موٹروں کی خبر رکھے یا انہیں مالک تک پہنچائے۔ نا اہلی کا یہ عالم کہ تھانے بھی ایسی لاوارث گاڑیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ایسی گاڑیوں کا ایک قبرستان سوک سینٹر میں ہے۔ لیکن طویل مقدمے اور پولیس کی سستی اسے خالی نہیں ہونے دیتی۔

اگر کار چوری ہوئی اور آپ نے کہیں ڈھونڈ لی تو خیر ورنہ 'خاک ہوجائے گی وہ تم کو خبر ہونے تک‘ کیونکہ اس سال چوری ہونے والی 32 ہزار گاڑیوں میں سے صرف پانچ فی صد ہی واپس ملیں۔ باقی سڑک کا فرنیچر بن چکیں۔

Tabool ads will show in this div