رانا ثناء اللہ کی جائیدادوں کی تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں جمع

نیب کی درخواست کی سماعت 16 دسمبر کو ہوگی
Dec 03, 2020

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Rana-Sana-ASSETS-Report-Lhr-PkG-03-12.mp4"][/video]

نیب نے رانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادی۔ نیب کے مطابق 24 پراپرٹیز کی مالیت اربوں میں ہے، پلازے، کمپنیاں، گھر، فارم ہاؤسز اور زرعی زمینيں شامل ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر نیب نے اثاثوں کی رپورٹ جمع کرادی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کیخلاف 3 مختلف شکایات موصول ہوئیں، 3 دسمبر 2019ء کو انکوائری شروع کی گئی، جس میں رانا ثناء اللہ اور ان کے گھرانے کی 24 پراپرٹیز سامنے آئیں، یہ جائیدادیں لاہور اور فیصل آباد میں ہیں، ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی آر ایس کے بھی ہے۔

انکوائری میں پتہ چلا کہ اثاثوں کی اصل مالیت ظاہر نہیں کی گئی، سابق وزیر قانون نے 2015ء، 16 اور 2017ء کے دوران مختلف سوسائیٹیوں میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ رپورٹ کے مطابق رانا ثناء اللہ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

نیب کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت 16 دسمبر کو مقرر ہے اور یہ رپورٹ اسی سلسلے میں جمع کرائی گئی ہے۔

Tabool ads will show in this div