بابراعظم کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر پولیس سے جواب طلب

خاتون کے ہراسانی کے الزامات
Nov 30, 2020
[caption id="attachment_2104996" align="aligncenter" width="800"] فوٹو: پی سی بی[/caption]

لاہور کی سیشن عدالت نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر پولیس سے جواب طلب کرلیا ہے۔

لاہور کی رہائشی حمیزہ مختار نامی خاتون نے بابراعظم کے خلاف دھوکا دہی اور جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی مگر پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا جس پر خاتون نے عدالت سے رجوع کیا۔

خاتون کی درخواست پر پیر کو سماعت ہوئی۔ حمیزہ مختار نے دو الگ درخواستوں میں بابراعظم، محمد اعظم، فیصل اعظم، کامل اعظم اور محمد نوید کو فریق بنایا ہے۔

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ خاتون نے بابراعظم کے خلاف فراڈ اور جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کرنے کیلئے سی سی پی او لاہور کو درخواست دی لیکن اس پرعمل درآمد نہیں ہوسکا۔

درخواست گزار کے مطابق بابراعظم کے اہل خانہ انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ عدالت ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔ عدالت نے لاہور پولیس سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت پانچ دسمبر تک ملتوی کردی۔

حمیزہ مختار نے ہفتے کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بابراعظم کے پڑوس میں رہتی رہی ہیں۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے رہے ہیں، بابراعظم نے انہیں محبت میں دھوکا دیا۔ بابر اعظم نے 2010 میں شادی کا وعدہ کیا لیکن جب بھی نکاح کا مطالبہ کرتی تو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، دونوں فیملیز شادی کے لیے تیار نہیں تھیں، بالآخر  بابراعظم نے انکار کر دیا۔

حامیزہ نے الزام لگایا کہ اس نے اپنے بیوٹی سیلون کی کمائی کے کروڑوں روپے بابراعظم پر خرچ کردیے۔ میری شکایت پر اس معاملہ میں پولیس میں شنوائی ہوئی نہ پی سی بی نے کوئی ایکشن لیا۔

پریس کانفرنس میں خاتون کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر اب  درخواست سیشن کورٹ میں ہے جس کی 4 دسمبر کو سماعت ہے، جنسی ہراساں کرنے کے کیس پر سماعت 5 دسمبر کو ہونا ہے۔

Tabool ads will show in this div