عمارتوں میں ہنگامی اخراج نہ ہونے پر سندھ ہائیکورٹ برہم

کمشنر کراچی عدالت طلب
Nov 25, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Fire-Law-KHI-PKG-25-11-Umair.mp4"][/video]

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی بڑی عمارتوں میں ہنگامی اخراج کا راستہ نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹاسک فورس کو پندرہ دن میں حتمی تجاویز دینے کی ہدایت کر دی جبکہ آئندہ سماعت پر کمشنرکراچی کو بھی طلب کرلیا۔

کراچی ميں آتشزدگی کے واقعات اور آگ بجھانے میں تاخیر سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی 30 گاڑیاں خراب ہیں۔ قانون کے مطابق ہر اسٹیشن پر چار گاڑیاں ہونی چاہیئں مگر وہ بھی نہیں۔

چیف فائر آفیسر نے کہا کہ اس وقت صرف 14 گاڑیوں کی مدد سے پورے شہر کو چلارہے ہیں۔ سول ڈیفنس کے نمائندے نے بتایا کہ بڑی بڑی عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ تک نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ایسی عمارتوں کو کمپملیشن سرٹفیکٹ کیسے جاری کردیتے ہیں۔ شہر میں آئے دن حادثات ہورہے ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے انتظامات کون کرے گا۔

عدالت نے قراردیا کہ جب تک آگ بجھانے کے انتظامات نہ ہوں، عمارت میں رہائش نہیں ہوسکتی۔ یہی قانون فیکٹریز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اتنا بڑا کراچی ہے۔ ٹاسک فورس نے اس کے لیے کیا لائحہ عمل بنایا۔

عدالت نے ٹاسک فورس کو 15 دن میں حتمی تجاویز دینے اور کمشنرکراچی کو مزید ٹیلیفون نمبرز مختص کرنے کی ہدایت کردی۔ سندھ ہائیکورٹ نے آٹھ دسمبر کو اگلی سماعت پر متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کرلیں۔

Tabool ads will show in this div