انیس سالہ افغان جنگ میں26ہزار بچےہلاک ومعذور، رپورٹ

گزشتہ 14سال میں اوسطاً ہرروزافغانستان میں 5بچے ہلاک یا زخمی ہوتے
Nov 25, 2020
فوٹو: یونیسیف
فوٹو: یونیسیف
[caption id="attachment_2108629" align="alignnone" width="800"] فوٹو: یونیسیف[/caption]

امریکا کی جانب سے جاری 19سالہ افغان جنگ کے دوران گزشتہ 14 سال میں افغانستان میں اوسطاً ہر روز 5 بچے ہلاک یا زخمی ہوتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے ’سیو دی چلڈرنز‘ نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ افغانستان بچوں کے لیے دنیا کے 11خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2005 اور 2019 کے دوران کم از کم26 ہزار 25بچے یا تو مارے گئے یا معذور ہوئے۔

رپورٹ افغانستان کی امداد متعلق جنیوا میں ہونے والی ایک عالمی کانفرنس سے چند گھنٹے قبل جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان جنگ کے دوران سال2017 اور 2019 کے دوران 300 سے زائد اسکولوں پر حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں 410بچے زخمی ہوئے یا مارے گئے۔

تنظیم نے امداد دینے والی اقوام سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے لیے امدادی رقوم میں اضافہ کریں تاکہ ان کی اور معذور اور غیر محفوظ لوگوں کی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کے بچوں کی نصف تعداد اسکول جاکر تعلیم حاصل نہیں کر پارہی۔ اسکول نہ جانے والے بچوں میں سے 60 فیصد لڑکیاں ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں حالیہ مہینوں میں امن کی کوششوں اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے باوجود پر تشدد کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کئی فوجی اور جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

Tabool ads will show in this div