ملک پر گیس کا بڑا بحران منڈلانے لگا

وزارت منصوبہ بندی کا انتباہ

قدرتی گیس کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ وزارت منصوبہ بندی نے ایل پی جی کو متبادل حل قرار دے دیا جبکہ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے ایل پی جی پر تمام ٹیکسز ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

ملک پر گیس کا بڑا بحران منڈلانے لگا۔ وزارت منصوبہ بندی نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی گیس کے دستیاب ذخائر آئندہ 10 سال میں 75 فیصد کم ہونے ہوں گے۔ گیس کی پیداوار 4 ارب کیوبک فٹ سے کم ہوکر صرف ایک ارب کیوبک فٹ یومیہ رہ جائے گی۔

سما کو ملنے والی دستاویز کے مطابق وزارت نے چیلنج سے نمٹنے کیلئے  ایل پی جی پر انحصار بڑھانے کی تجویز دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مقامی اور درآمدی ایل پی جی پرٹیکسز کی شرح کم کی جائے۔

وزارت منصوبہ بندی ایل پی جی درآمد پر عائد ساڑھے 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے، مقامی پیداوار پر سیلز ٹیکس میں 7 فیصد کمی اور 3 فیصد ایڈیشنل ٹیکسز صفر کرنے کی تجاویز بھی دے دیں۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ عوام کا فائدہ سبسڈی میں نہیں بلکہ ٹیکسز ختم ہونے میں ہے۔ چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت ایل پی جی کو سبسڈائز کر رہی ہے، ہم سبسڈائز نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں تمام ٹیکسز کا خاتمہ ہو، عوام کو سستی گیس مل سکے۔

رپورٹ میں پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کو عالمی مارکیٹ کے تناسب سے طے کرنے اور درآمدی ایل پی جی پر ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

gas crisis

Tabool ads will show in this div