چینی بحران:جہانگیر ترین،علی ترین اور شہباز شریف کیخلاف مقدمہ درج

مقدمے میں سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کا نام بھی شامل
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2100136" align="alignright" width="999"] فائل فوٹو[/caption]

چینی بحران کیس اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے نے جہانگیر ترین ، ان کے بیٹے علی ترین اور شہباز شریف کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ ایف آئی آر میں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کی جانب سے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین، شہباز شریف ، ان کے بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور چینی بحران کیس میں مقدمہ درج کرلیا۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف مقدمہ میں پی پی سی کی دفعات 34,109,419,420,468,471شامل ہیں۔

اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آر ڈبلیو 47ٹو اور 47تھری کی دفعات بھی مقدمے میں شامل کی گئی ہیں۔ درج ایف آئی آر میں شہباز شریف فیملی پر 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف مقدمہ میں پی پی سی 406،109،420 کی دفعات شامل کی گئی ہیں، جب کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آر ڈبلیو 3/4 کی دفعہ لگائی گئی ہے۔

جہانگیر ترین اور علی ترین 4ارب 35کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

ایف آئی اے میں شہباز شریف اور جہانگیر ترین کی فیملیز کے خلاف الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جن میں امانت میں خیانت، دھوکا دہی اور فراڈ سمیت منی لانڈرنگ کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین رواں ماہ 6 نومبر کو لندن سے پاکستان پہنچے تھے۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ علاج کی غرض سے لندن گئے تھے۔ جہانگیر ترین کو کینسر کی تشخیص سال 2014 کے دھرنے کے دوران ہوئی تھی۔ علاج اور کیمو تھراپی کیلئے سال میں 2 مرتبہ وہ لندن جاتے ہیں۔ اس مرتبہ وہ رواں سال 4 جون کو برطانیہ روانہ ہوئے تھے۔

JAHANGIR TAREEN

SUGAR CRISIS

Tabool ads will show in this div