چولستان کے بچوں کو تعلیم دینے والا موبائل اسکول

شہریوں کے ساتھ ساتھ اسکول بھی نقل مکانی کرتا رہتا ہے

یقیناً آپ نے شہروں میں قائم طرح طرح کی سہولیات سے آراستہ بڑی بڑی عالیشان درسگاہیں تو دیکھی ہوں گی لیکن پاکستان میں ایسے بھی طلبہ ہیں جنہیں علم کی روشنی حاصل کرنے کیلئے کئی جتن کرنے پڑتے ہیں۔

ریت سے ابھرتی، انگڑائیاں بھرتی صبح، سورج ہر سو روشنی پھیلاتا نئے دن کا پیغام سناتا ہے۔ پھیلتے اجالے میں صحرائی زندگی کے بکھرتے رنگ نظر آتے ہیں، کہیں پانی کیلئے جدوجہد تو کہیں مویشیوں کی نقل مکانی، کہیں خالی اجاڑ گھروندے ہیں جن میں مکین خاموش اور ویران سے لگتے ہیں۔

صحرائے چولستان کے باسیوں کو صرف پانی کی تلاش نہیں، علم کی پیاس بجھانے کیلئے صحرائی بچوں کو بھی کڑے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے خیمہ لگا کر اسکول تیار کرتے ہیں اور پھر قطار در قطار طلبہ کی آمد ہوتی ہے، پھر کہیں جاکر درس و تدریس کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنیوالے استاد کا کہنا ہے کہ جیسے یہاں کے لوگ پانی کی تلاش میں آگے کو سفر کرتے رہتے ہیں، ویسے یہ موبائل اسکول بھی ان کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے، ایک اسکول ایک ماہ میں دو بار بھی شفٹ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریت کے ٹیلے جیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ بکھرتے رہتے ہیں، یہ ٹوبہ اسکول بھی اسی طرح ایک ٹوبہ سے پانی ختم ہوا تو دوسرے ٹوبے پر چلا جاتا، وہاں پانی ختم ہوا تو تیسرے ٹوبے پر۔ اس طرح یہ اسکول بھی نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک خیمے میں 5 جماعتوں کے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے، تقریباً 50 بچے یہاں پڑھ رہے ہیں۔

عمر میں چھوٹے لیکن عزائم میں بڑے ان بچوں میں کوئی مستقل میں استاد تو کوئی فوجی بننے کا خواہشمند ہے۔

صحرا کے باسی اب اس مقام سے بھی کوچ کرنیوالے ہیں، موبائل ٹوبہ اسکول بھی اب ان کے ساتھ ہی روانہ ہوجائے گا۔

Tabool ads will show in this div