لاپتہ افراد کے لواحقین کا پیدل مارچ کراچی پہنچ گیا، جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

اسٹاف رپورٹ


کراچی : بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئٹہ سے لانگ مارچ کرنے والوں کا کراچی پریس کلب پر بھرپور استقبال کیا گیا، مارچ کے شرکا نے لاپتہ افراد کی بازيابی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔


قدم سے قدم ملا کر کوئٹہ سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے کراچی پہنچنے والے مظاہرین نے بہت لمبا سفر پیدل طے کیا ہے، سیکڑوں خواتین اور بچے بھی اپنے عزیزوں کی تصاویر اور پلے کارڈ اٹھائے شریک تھے، لانگ مارچ کوئٹہ سے شروع ہوا۔


شرکاء نے 28 روز کا 750 کلومیٹر کا پیدل سفر کیا اور صعوبتیں جھیلتے بالآخر کراچی پہنچ گئے۔


وائس آف بلوچ کے تحت ماما قدیر اور فرزانہ مجید کی قیادت میں مظاہرین پریس کلب پہنچے تو انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے ان کا استقبال کیا اور پھول نچھاور کئے۔


ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے ماما قدير نے کہا کہ گزشتہ 5 سالوں ميں اتنے لوگ لاپتہ نہيں ہوئے جتنے موجودہ حکومت کے 5 ماہ ميں ہوگئے۔


ماما قدير کا کہنا تھا کہ 18 ہزار سے زائد بلوچ لاپتہ ہوچکے، 1500 سے زائد مسخ شدہ لاشيں مليں، سپريم کورٹ کے بار بار احکامات کے باوجود کسی لاپتہ شخص کو بازیاب نہیں کرایا گیا۔


مارچ کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کيا کہ لاپتہ افراد کی بازيابی کیلئے اگلے مرحلے ميں اسلام آباد تک لانگ مارچ کريں گے۔ سماء

کے

کا

burger

MQM

جاری

tragic

ceo

mirza

azarenka

Tabool ads will show in this div