جسٹس فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ، ماہرین قانون کی رائے

ججوں کیخلاف ریفرنس کا طریقۂ کار متعین کردیا گیا
Oct 23, 2020

قانونی ماہرين کا کہنا ہے سپريم کورٹ نے فيصلے ميں ججوں کیخلاف ريفرنس کا طريقۂ کار متعين کرديا۔ جسٹس (ر) شائق عثمانی کہتے ہيں عدالت نے ريفرنس ميں بدنیتی کے الزام کو مسترد کرديا جبکہ عابد ساقی کہتے ہیں کہ ريفرنس کو آئين و قانون کیخلاف قرار ديا گيا ہے۔

سپریم کورٹ پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معزز جج کیخلاف ریفرنس غیر آئینی تھا، انہیں خفيہ رياستی جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کیخلاف صدر مملکت عارف علوی نے بیرون ملک اثاثہ جات رکھنے کے الزام میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا، جس کیخلاف قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ نے 19 جون 2020ء کو مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس خارج کردیا تھا۔

فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس (ر) شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ بینچ نے ريفرنس ميں بدنيتی کے الزام کو مسترد کرديا۔

عابد ساقی نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفريدی کے نوٹ کے مطابق وزير قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کیخلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

قانونی ماہرين نے کہا کہ فيصلے کے ذريعے يہ طے کرديا گيا ہے کہ ججوں کیخلاف ريفرنس کا طريقۂ کار کيا ہونا چاہئے۔

QAZI FAEZ ISA

Tabool ads will show in this div