پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈروکیل نیشا سے ملیے

نیشانےسڑکوں پربھیک مانگ کرتعلیم حاصل کی

اٹھائیس سالہ نیشا راؤپہلی ٹرانس جینڈروکیل ہیں جو لاہورسے کراچی آئیں اور وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے 10 سال سڑکوں پر بھیک مانگی۔

نیشا کیلئےحالات اتنےآسان نہیں تھے لیکن ان تمام کٹھنائیوں کامقابلہ کرتے ہوئے وہ اس مقام تک آپہنچیں، سماء کے پروگرام "نیا دن" میں نیشا نے اپنے سفر کی داستان سنائی۔

نیشا کا تعلق متمول گھرانے سے ہے لیکن وہ گھر سے چوری چھپے دوستوں کے ساتھ کراچی آئیں، 3 ماہ بعد علم ہونے پر گھر والوں نے واپس لے جاکر سمجھایا بجھایا کہ جہاں بھی رہو لیکن اپنی زندگی میں کچھ بن جاو،بعد ازاں نیشا اپنی کمیونٹی کے ساتھ دوبارہ کراچی آئیں اورتعلیمی سلسلے کا آغاز کیا۔

معاشی وسائل ہونے کے باوجود گھروالوں نے تعلیمی سلسلے میں مدد کیوں نہ کی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نیشان نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں اخراجات پورے کرنے کیلئے بھیک مانگتی ہوں، وہ یہی سمجھتے رہے کہ میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ ہوں لیکن چونکہ ہماری کمیونٹی کو کوئی سپورٹ نہیں کرتا تو اپنی مدد آپ کرنی پڑتی ہے۔ انہیں اس بات کا علم بہت بعد میں ہواتھا۔

ماں باپ سے مدد کیوں نہ لی؟ اس پرنیشا نے کہا کہ گھرمیں چھوٹی ہونے کی بناء پراپنی منوانے کی عادت تھی اور دیگر مسائل بھی تھے،والد صاحب کی 2 شادیاں ہیں تو میرے سوتیلے بہن بھائی ہیں۔ ہماری فیملی میں سب پڑھے لکھے ہیں، اس لیے میں نے بھی ٹھان لی کہ کچھ بننا ہے۔

اس سفر میں نیشا کا ساتھ دینے والے ان کی رہنمائی مدثراقبال نے کی جو خود بھی اسی پروفیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی خواجہ سراکو پروفیشنل شعبے میں پہلے نہیں دیکھا جاتا تھا لیکن اب ماحول تبدیل ہورہا ہے، میں نے انہیں سڑکون پر بھیک مانگتے دیکھا تھا۔ نیشا سے ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی جہاں یہ بھی آئی ہوئی تھیں، بات ہوئی تو علم ہوکہ گریجویشن کیا ہے جس پر میں نے ان کی رہنمائی کی اور کہا اگر آپ چاہتی ہیں کہ اپنی کمیونٹی کی آواز بنو تو پھر آپکو وکالت کے شعبے کی جانب آناچاہیے۔

مدثراقبال کے مطابق نیشا کو سپورٹ کرنے پربظاہرتنقید کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا لیکن ہمارے معاشرےمیں اب بھی لوگ ایسی باتوں کو عجیب سمجھتے ہیں۔ میں نے نیشاکوہمت وحوصلہ دلایا، سمت دکھائی اور کہا کہ اب خود لڑو۔ اب مجھے سراہا جاتا ہے لیکن میرا کوئی کمال نہیں، محنت توان کی اپنی ہے۔ ہم نے ایسے افردا کو کارآمد نہ سمجھتے ہوئے سائیڈ پرلگایا ہوا ہے، انہیں آگے لائیں تا کہ وہ بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرسکیں۔

نیشا نے بتایا کہ بھیک مانگنا زندگی کا سب سے برا تجربہ تھا، لیکن اس وقت اس وقت کسی این جی او وغیرہ نے سپورٹ نہیں دی شاید تب اتنی آگاہی نہیں تھی ۔

نیشا نے کمیونٹی کی مدد کیلئےمدثراقبال کے ہمت دلانے پر " ٹرانس برائٹ سوسائٹی"نامی این جی او رجسٹرڈ کروائی جس کی سربراہ وہ خود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سر نے کہا کہ میں تمہاری مدد کروں گا لیکن تمہیں خود کرنا ہوگا۔ اب میں لیگل ایشوز پر کام کررہی ہوں اور اپنی کمیونٹی کے افراد کی مدد کر رہی ہوں۔ زیادہ ترہراساں کرنے کے کیسز لیتی ہوں یا کسی پر تشدد ہو رہا ہو تو مدد کرتی ہوں۔ وراثتی معاملات وغیرہ سے متعلق رہنمائی کیلئے سرسے مدد لیتی ہوں۔

پروفیشن کا آغاز کرنے والی نیشا نے خوشی کااظہارکرتے ہوئے بتایا کہ وکلاء بہت اچھے ہیں اور میری مدد کرتے ہیں، خوشی ہے کہ لوگ بھی مجھے کورٹ میں عزت دیتے ہیں۔ جو لوگ مجھے سن رہے ہیں، ان کیلئے پیغام ہے کہ بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ لیں، کچھ کام سیکھیں تا کہ زندگی میں آگے بڑھتے ہوئے کچھ بن سکیں۔

NAYA DIN

NEESHA RAO

NISHA RAO

Tabool ads will show in this div