آئین کی 18ویں ترمیم پروفاق وصوبوں میں اختلافات کیوں ہیں؟

ترمیم اور اس پر اختلاف کا مختصر جائزہ
Oct 21, 2020
[caption id="attachment_2043546" align="alignnone" width="800"]NationalAssemblyAPP-1522607658-517-640x480 فوٹو: اے پی پی[/caption]

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اب تک ہونے والے جلسوں میں جہاں مہنگائی، بے روز گاری، فوج کے سیاست میں دخل اور غیر شفاف انتخابی عمل اور صوبائی خود مختاری اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم جیسے متنازعہ امور کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے وہاں خصوصاً 18 اکتوبر کو کراچی کے جلسے میں 18 ویں آئینی ترمیم کا ذکر بھی کیا گیا۔

نیوز ویب سائٹ سجاگ کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری دونوں نے اپنی تقاریر میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دی گئی خود مختاری واپس لینا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے قدرتی گیس کی غیرمنضفانہ تقسیم، آنے والے قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبوں کے حصّوں میں متوقع کمی اور بلوچستان اور سندھ کے سمندری جزیروں کو وفاقی ملکیت میں لئے جانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد ان امور پر کوئی یک طرفہ فیصلہ کر لینا وفاقی حکومت کے اختیار میں نہیں رہا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے اختیارات سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گی اور کسی بھی ایسے وفاقی اقدام کے خلاف مزاحمت کریں گی جو ان کی مشاورت اور رضا مندی کے بغیر اٹھایا جائے گا۔

دوسری طرف وفاقی کابینہ میں شامل کئی وزرا اور خود وزیر اعظم عمران خان کئی بار 18 ویں ترمیم کے خلاف بات کر چکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ صوبوں کو دیے جانے والے اختیارات اور وسائل کی تقسیم میں ان کے حصے میں اضافہ سماجی اور معاشی ترقی کا سبب بننے کے بجائے صوبائی حکومتوں کی بدعنوانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وفاق کے اختیارات اور مالی وسائل میں کمی کی وجہ سے دفاع اور قرضوں کی واپسی کے لیے دستیاب رقم ضرورت سے کم پڑ رہی ہے۔

اس ساری بحث کے پیچھے کا رفرما عوامل اور اس کے سیاسی، آئینی اور مالی مضمرات کے بارے میں جب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹیو ڈویلمپنٹ اینڈ ٹریننگ (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کا اہم ترین حصہ صوبائی خودمختاری سے متعلق ہے جو پاکستان میں شروع دن سے ایک اختلافی اور متنازعہ موضوع رہا ہے یہاں تک کہ سن 1971 میں جب پاکستان دو لخت ہوا تو اس کی بنیادی وجہ بھی صوبائی خود مختاری کا معاملہ تھا جس کو ہمارے ارباب اختیار صحیح طرح سے سنبھال نہیں سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 18 ویں ترمیم پر جو اعتراضات پائے جاتے ہیں وہ بنیادی طور پر صوبائی خودمختاری ہی کے بارے میں ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے صوبوں کا مالی وسائل میں حصہ اور ان پر کنٹرول بڑھا ہے جبکہ وفاق کا حصہ اور اختیار کم ہوئے ہیں اس وجہ سے بھی یہ ترمیم وفاق اور صوبوں میں تنازعہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق یہ کوئی انہونی بات نہیں کیونکہ ہر معاشرے میں اس طرح کے اہم مسائل پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن اس مسئلے کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا اگر 18 ویں ترمیم کو منظور کرتے وقت وسیع تر اتفاق رائے کے لیے پارلیمان اور سیاسی جماعتوں میں اس پر بھرپور طریقے سے بات چیت کی جاتی۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر ملک بھر میں لوگوں کے درمیان بحث مباحثہ کرا کے اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی۔

پارلیمانی اور صدارتی نظام میں موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسی ریاستیں موجود ہیں جہاں صدارتی اور وفاقی نظام ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جیسے ریاست ہائے متحدہ امریکا جہاں پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام دونوں اکٹھے موجود ہیں یا کچھ ممالک میں برطانیہ جیسا نظام ہے جو پارلیمانی تو ہے لیکن وفاقی نہیں تاہم اصل بات یہ ہے کہ آپ کتنی ایمانداری اور خلوص سے وفاقیت کو اپنانا چلاتے ہیں۔

ان کے مطابق حکومتوں کا ایک موثر نظام 18 ویں ترمیم کے تحت نچلی سطح پر اقتدار کی منتقلی کے عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں وفاق، صوبے اور ضلع کی سطح پر حکومت کا نظام موجود ہے تو ہمیں ان تینوں سطحوں کے درمیان ایک توازن قائم کرنا پڑے گا۔ کسی ایک سطح کو نظر انداز کر کے ہم اچھے نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ سن 2002 کے مقامی حکومتوں کے نظام میں یہی خرابی تھی کہ اس میں صوبوں کو یہ لگا کہ ان سے حق تلفی کی جا رہی ہے لیکن دوسری طرف اس وقت ملک میں مقامی حکومتیں ایک مبہم اور بے معنی چیز بن کر رہ گئی ہیں کیونکہ صوبائی حکومتیں انہیں کوئی اختیارات دینے پر تیار نہیں اس لیے وہ صرف نام کی مقامی حکومتیں ہیں جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔

18th amendment

PDM

Tabool ads will show in this div