پاکستان میں 10 میں سے4 بچے غذائی قلت کا شکار

غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد بڑھنے لگی
Oct 21, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/National-Nutrition-Survey-Isb-Pkg-20-10.mp4"][/video]

نیشنل نیوٹریشن سروے میں 5 سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت سے متعلق بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 10 میں سے 4 بچوں کو پوری خوراک ہی نہیں ملتی۔

پاکستان میں غذائی قلت کےشکار بچوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ملک میں 5 سال سے کم عمر 10 میں سے 4 بچے خوراک کی کمی کا شکارہیں اورپوری خوراک نہ ملنے کے باعث 40 فیصد بچوں کا قد چھوٹا جبکہ 17.7 فیصد کا وزن  کم ہے۔سال 2018-19 سے متعلق نیشنل نیوٹریشن سروے رپورٹ کے مطابق سندھ، قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا اوربلوچستان میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی شرح  مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پیدائش کےبعدپہلے6ماہ میں48.4فیصد بچوں کو ماں کا دودھ بھی میسر نہیں آتا۔معاون خصوصی صحت نے کہا ہے کہ کوشش ہے کہ ملک میں باقاعدہ مال نیوٹریشن کا خاتمہ کرنا ہے اور نیوٹریشن کو عام کرنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کم وزن بالغ لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہے۔15 سے 49 سال عمر کی 1 فیصد خواتین خون کی شدید کمی جبکہ 41.7 فیصد خواتین خون کی معمولی کمی کا شکار ہیں۔

nutrition

Tabool ads will show in this div