سندھ پولیس چیف سمیت متعدد افسران چھٹی پر چلے گئے

مزید افسران بھی چھٹی مانگنے لگے
Oct 20, 2020

سندھ پولیس کے سربراہ سمیت محکمے کے ایک درجن سے زائد اعلیٰ افسران نے کیپٹن صفدر کی ایف آئی آر اور گرفتاری کے معاملے پر دباؤ کے خلاف احتجاجاً چھٹیوں کی درخواستیں دے دیں۔

کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر چھٹیوں پر جانیوالے افسران میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس، ڈی آئی جی  اسپیشل برانچ قمر زمان، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید ریاض اکبر، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد، ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ، ڈی آئی جی ہیڈ کواٹرز ثاقب اسماعیل میمن، ڈی آئی جی ویسٹ عاصم قائمخانی، ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی، ایس ایس پی کورنگی فیصل عبداللہ چاچر، ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزئی، ایس ایس پی اسپیشل برانچ توقیر نعیم اور ڈی آئی جی ٹريفک جاويد علي مہرشامل ہیں۔

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے سماء سے گفتگو میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ روز کیلیے چھٹیوں پر جا رہا ہوں۔

سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی عمران یعقوب منہاس نے چھٹیوں کی درخواست دیتے ہوئے کہا کہ کیپٹن صفدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے اور ان کی گرفتاری کیلئے جس طرح پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور جس طرح ان کا مورال ڈاؤن کیا گیا، اس ماحول میں ان کیلئے کام کرنا مشکل ہے۔

آئی جی سندھ مشتاق مہر کے ساتھ ایڈیشنل آئی جی عمران یعقوب منہاس سمیت 12 سے زائد پولیس افسران نے احتجاج کے طور پر چھٹی کی درخواستیں دی ہیں اور تمام افسران نے اپنی درخواستوں میں کہا ہے کہ کیپٹن صفدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے اور ان کو گرفتار کرانے کیلئے پولیس پر دباو ڈالا گیا اور ان کی تضحیک کی گئی جس سے پولیس کا مورال ڈاؤن ہوگیا ہے۔ وہ انتہائی صدمے میں ہیں۔ ایسی صورتحال میں کام کرنا ممکن نہیں۔

مزید جانیے : پولیس کی تضحیک، جنرل باجوہ، فیض حمید تحقیقات کریں، بلاول 

ان افسران میں سے بعض کی درخواستیں محکمہ داخلہ کو موصول ہوگئی ہیں جبکہ دیگر کی درخواستیں تیار کی جارہی ہیں۔ آئی جی سمیت تمام افسران درخواستیں دینے کے بعد اپنے دفاتر چھوڑ دیں گے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایف آئی آر درج کرانے اور صفدر کو گرفتار کرانے کیلئے سیکٹر کمانڈر نے آئی جی سندھ مشتاق مہر اور ایڈیشنل آئی جی کو زبردستی اپنے دفتر لے جاکر ان پر دباؤ ڈالا گیا۔

سندھ حکومت نے مریم نواز کے اس الزام کی تردید نہیں کی اور صوبائی وزرا نے بالواسطہ اس کی تصدیق بھی کی مگر کھل کر اس کا اظہار نہیں کیا۔ مگر پولیس افسران کے اس احتجاج نے مریم نواز کے موقف کو تقویت پہنچائی ہے۔

سندھ پولیس کے تمام اعلیٰ افسران نے درخواستیں دینے سے قبل اجلاس منعقد کیا جس میں گزشتہ روز آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کے مبینہ اغوا اور تضحیک پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس اجلاس میں تمام افسران نے متفقہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا۔

سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدلیہ اور فوج کے احترام کا درس دیا جاتا ہے تو کیا پولیس ادارہ نہیں ہے۔ پولیس کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا۔ جس کے آئی جی تک افسران نے جانیں قربان کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان بھر سے متعدد پولیس افسران کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور وہ انتہائی بد دل، بدظن اور مایوس ہوچکے ہیں۔ آج اگر یہ سارے پولیس افسران ایک گھنٹے کے لیے ہٹ جائیں تو سوچیں ملک کا کیا بنے گا۔

Tabool ads will show in this div