کالمز / بلاگ

جسموں میں زہر گھولتا سنگ مرمر

چنگھاڑتی مشینیں،ماربل کابرادہ انسانی صحت کے درپے

ٹن ٹن ٹن۔۔۔۔ اسکول بیل کی آواز کے ساتھ ہی پرائمری اسکول کے طالب علم اپنی اپنی جماعتوں کی جانب لپکتے ہیں۔۔ ان ہی بچوں میں ایک 10 سالہ ابراہیم بھی ہے، جو کندھے پر بیگ ڈالے گھنٹی کی آواز کیساتھ ہی گھر سے اسکول کی جانب لپکتا ہے۔ اس علاقے میں چاروں جانب سفید غبار کے بادل اڑاتی ماربل کی فیکٹریاں، کارخانے اور ورکشاپس دن رات علاقہ مکینوں کی سماعتوں اور صحت کا امتحان لیتے ہیں۔ ان فیکٹریوں ، کارخانوں اور ورکشاپس میں بڑی بڑی ماربل کی چٹانوں سے لائی گئی سِلوں کو کاٹا جاتا ہے۔ یہ مال زیادہ تر بلوچستان کے مختلف شہروں اور پھر پشاور سے ٹرکوں میں بھر کر کراچی لایا جاتا ہے۔

یہ احوال ہے کراچی کے گنجان آباد علاقے پاک کالونی کا ہے، جہاں آبادی کے بیچوں بیچ بنے ماربل کے کارخانوں اور ورکشاپس کی وجہ سے لوگوں کا رہنا محال ہے۔ یہ ابراہیم کا روز کا معمول ہے کہ وہ اسی شور اور ہنگامے کے درمیان گھر ہو یا اسکول تعلیم حاصل کرتا ہے، صرف ابراہیم ہی نہیں اس پرائمری اسکول میں پڑھنے والے تمام بچے، اسٹاف سمیت پورا اہل علاقہ ان فکٹریوں، کارخانوں اور ورکشاپس سے نکلتے ماحولیاتی آلودگی اور بے ہنگم شور سے پریشان ہیں۔

اسکول پرنسپل

یہ ہی پریشانی ہمیں اس اسکول کے اندر لے گئی، جہاں ہماری ملاقات اسکول پرنسپل سے ہوئی۔ انہوں نے بڑے تعاون کیساتھ ہمیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ 28 سالہ نادیہ کا کہنا تھا کہ میں بحیثیت پرنسپل 5 سال سے اس درسگاہ سے وابستہ ہوں اور مجھ سے پہلے بھی اس اسکول کی انتظامیہ اس مسئلے پر متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے بات کرچکی ہے مگر مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ یہ ایک رہائشی علاقہ ہے مگر اس کارخانوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے باعث اب یہ ایک انڈسٹریل علاقہ لگنے لگا ہے۔ نہ صرف آس پاس کے لوگوں بلکہ اسکول اسٹاف اور خصوصاً بچوں کیلئے بہت زیادہ تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ اکثر اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں کلاس رومز کو جمع ہونے والی گرد اور سفید غبار سے بچنے کیلئے تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے ایک سنجیدہ مسئلے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے بتایا کہ ہماری 2 ٹیچرز اور کچھ بچے ایسے ہیں، جنہیں دمے کا مرض لاحق ہے اور وہ اسی علاقے کے رہائشی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان کی دیکھ بھال اور تدریس کے عمل کو ساتھ ساتھ چلانا ایک دہرا امتحان ہے۔ مگر ہم کیا کرتے ہیں، کیوں کہ ہم مجبور ہیں۔پرنسپل نے مزید بتایا کہ یہ گرد اکثر اتنی شدید ہوتی ہے کہ ہمیں بار بار چیزوں کو صاف کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ یہ ماربل کی فیکٹری عین دیوار کے ساتھ جڑی ہے، جہاں چلنے والے مشینوں کی آوازوں سے بچوں کی پڑھائی میں بھی خلیل پڑتا ہے۔ عام دنوں اور حالات میں تو گزارا ہو جاتا ہے، تاہم امتحانات کے دوران بچے بہت کوفت محسوس کرتے ہیں۔ اپنی بے بسی کے اظہار میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی چین ہے، اور ایسی فیکٹریوں اور کارخانوں کو آبادی سے نکال کر صنعتی علاقوں میں منتقل کرنا ہم عام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ انتظامیہ کا کام ہے وہ ان لوگوں کو یہاں سے کہیں اور منتقل کریں اور ہمارے معاشرے کو ہمارے بچوں کیلئے صاف اور محفوظ بنایا جا سکتے۔

ماہر ماحولیات

ماہر ماحولیات اور ماحولیات موسمی تبدیلی اور کوسٹل ڈیویلمپنٹ ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے ترجمان مرزا مجتبیٰ بیگ کا کہنا تھا کہ ہم گاہے بگاہے ایسے لوگوں اور اداروں کے خلاف ایکشن لیتے رہتے ہیں، تاہم اس کا کوئی مستقل حل نہیں کہ اس کا حل رہائشیوں کو ملے یا جو کام کرنے والے افراد ہیں ان کو ملے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں گھر بنانے کیلئے کوئی خاص ڈیزائن یا سیٹ اپ موجود نہیں۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں ایک گھر کے اوپر کئی کئی منزلیں بنا کر گھر تعمیر کیے گئے ہیں۔ منگھوپیر یا پاک کالونی جیسے گنجان آباد علاقے میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی نیا سیٹ اپ لایا جا سکے ہاں مگر ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ یہ گرد و غبار براہ راست ان شہری علاقوں میں جاتا اور انہیں متاثر کرتا ہے، جس سے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ جو لوگ یہاں سے گھر چھوڑ کر کسی اور علاقے میں منتقل نہیں ہوسکتے ان کیلئے کیا حل ہے؟ جس پر مجتبیٰ بیگ صاحب نے بتایا کہ اس کا مستقل کوئی حل نہیں تاہم لوگ یہ کرسکتے ہیں کہ وہ ماسک کا استعمال کریں، تاہم چھوٹے طبقات میں اتنی قوت خرید نہیں کہ وہ بار بار ماسک خریدیں۔ کارخانوں، ورکشاپس اور فیکڑیوں مالک اور انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے طور پر ایسے آلات استعمال کریں کہ رہائشی علاقوں میں ہونے کے باوجود یہ انسانی صحت کیلئے خطرہ نہ بننے۔ مگر اس پر بھی ایسے مالکان اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کا منافع اتنا نہیں ہوتا کہ وہ ایسے آلات اور مشینیں خرید سکیں۔ یا تو وہ بند کردیں یا پھر حکومت ان کا ساتھ دیں۔

کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیئے کہ ایسی صورت حال پر قابو کیلئے وہ زیادہ سے زیادہ ہماری مدد فراہم کی جائے، جو کہ ممکن نہیں۔ بے شک کمیونٹی کو صاف ہوا اور پانی دینے کی ذمہ دار حکومت ہے مگر پرائیوٹ سیکٹرز اپنے کام کے خود ذمہ دار ہیں۔ یہ تیسری دنیا کے لوگوں کا گھمبیر مسئلہ ہے۔ یہ سیٹ اپ بہت پرانے ہیں۔ ان آبادیوں میں اب 1 گھر کے 4 گھر بنا دیئے گئے ہیں۔ کراچی میں تیزی سے ورٹیکل زاویئے سے آبادی میں اضافہ ہوا ہے، جو ایک خطرناک صورت حال اور پلاننگ ہے۔ وہ پلاننگ جو ہوریزونٹل ہونی چاہیئے تھی لوگوں نے اپنے منافع اور فائدے کیلئے مختلف سمت میں کردی۔

مقامی ڈاکٹر

اس علاقے سے  ذرا دور ایک لیڈی ڈاکٹر کا پرائیوٹ کلینک بھی ہے۔ ڈاکٹر مسرت کا کہنا ہے کہ ان کے کلینک میں اکثر آنے والوں میں بچے، بوڑھے اور خواتین کی تعداد شامل ہوتی ہے۔ جو زیادہ تر انفکشن، گلے، سانس کی بیماری آنکھوں میں جلن، سانس پھولنے اور جلدی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم نے لیڈی ڈاکٹر سے زیادہ بات کرنی چاہی تاہم انہوں نے رش اور مریضوں کی پرائیویسی کے باعث بات کرنے سے جھجک محسوس کی۔ ہم ان کی مجبوری سمجھ گئے تھے، سو بغیر کسی اصرار کے وہاں سے نکل گئے۔

رہائشی

اسی علاقے کے رہائشی 22 سالہ محمد عمیر کراچی یونی ورسٹی کے اسٹوڈنٹ ہیں اور اپنے والد کے ساتھ پڑھائی کے علاوہ اسٹیٹ ایجنٹ کا کام بھی کرتے ہیں۔ عمیر کا کہنا ہے کہ ہم بچپن ہی سے یہاں رہتے آرہے ہیں۔ میرا بچپن ان ہی گلیوں میں گزارا ہے۔ ہم اپنے گھر کے پاس یہ کارخانے، کٹنے کے ورکشاپس سے نکلتے سفید زہر اڑاتے دھوئیں کو شروع سے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ یہاں ہر دوسرے تیسرے گھر میں لوگوں کو سانس کی الرجی اور آنکھوں میں جلن کی شکایت رہتی ہے۔ جس کی وجہ ڈس کا بہت زیادہ ہونا ہے۔ مجھے خود بھی اسی ماحول کی وجہ سے سانس کا مسئلہ ہے۔ مگر مجبوری یہ ہے کہ کراچی جیسے شہر میں گھر تبدیل کرنا آسان نہیں۔ یہ ہمار اپنا گھر ہے اور اسی قیمت میں ایسے گھر کہیں ار ملنا مشکل ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ ہم یہاں سے علاقہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

عمیر کا مزید کہنا تھا کہ بے شک یہ شو رومز یہاں رہیں مگر فیکڑیوں اور کارخانوں کو یہاں سے منتقل کردینا چاہیئے۔ کیوں کہ اس کی کٹنے سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے ذرات لوگوں کیلئے مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ فیکٹریوں کے مزدورں روزانہ کی بنیاد پر ان جگہوں سے نکلنے والے کچرے کو آبادی کے بیچوں بیچ پھنک دیتے ہیں۔ اکثر اوقات تو یہ کچرا مہینوں مہینوں پڑا رہتا ہے۔

عمیر نے ایک اور دلچسپ بات یہ بتائی کہ اس کچرے کو گھروں پر آنے والے خاکروب سے پیسے دے کر صاف کرایا جاتا ہے۔ اور انہیں وہ خود بلا کر صاف کراتے ہیں۔ انتظامیہ اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کرتی۔ ایک خاکروب ایک وقت کی صفائی کے 200 سے 300 روپے دیہاڑی لیتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ فیکٹریوں سے نکلنے والے کچرے اور فضلے کو کہاں پھینکا جاتا ہے؟ تو محمد عمیر کا کہنا تھا کہ اس کچرے کو آبادی کے پیچھے بہتی ندی کے کنارے بنی کچرا کنڈی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ فیکٹری والے جو زیادہ فضلہ جمع ہونے پر اپنا کچرا بھی اسی ندی کنارے پھینک جاتے ہیں اور وہاں بھی یہ کچرا مہینوں مہینوں پڑا رہتا ہے، جس کے بعد کبھی کبھار بڑے بڑے ٹرک آکر وہ جمع کچرا اٹھا لے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ علاقے کے لوگوں نے اکثر منتخب نمائندوں سے اس سلسلے میں رابطہ کرنا چاہا، مگر پی ٹی آئی کے رہنما آتے ہیں اور دورہ کرکے چلے جاتے ہیں۔ پہلے یہ فیکٹریاں سڑک پر بنی ہوتی تھیں مگر اب یہ علاقے کے اندر تک بن گئی ہیں۔ محلے داروں کی جانب سے اس سلسلے میں شکایات بھی کی گئیں، تاہم کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ صرف علاقہ مکین ہی نہیں ان فیکٹریوں، کارخانوں اور ورکشاپس میں کام کرنے والے ملازمین سمیت دیگر عملے کو بھی کئی مسائل درپیش ہیں۔ سب سے زیادہ مسئلہ یہاں کچرا اٹھانے کا ہے۔ یہاں یہ لوگ اپنے طور پر کچرا اٹھا رہے ہیں۔

فلٹریشن پلانٹ کی کمی

فیکٹریوں میں فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے ماربل پوڈر کا پانی گلیوں سے ہوتا ہوا نالیوں اور صاف پانی کے فلٹر پلانٹس کی جانب اپنا رستہ بناتا، راستوں کو گندہ اور پلانٹس کی جگہ کو آلودہ کرتا ہے۔ جس کے باعث پاس بنا واحد کھیل کا میدان متاثر ہونے کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اتنے بڑے گنجان آباد علاقے میں فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے گندے پانی کی نکاسی کا کوئی سسٹم موجود نہیں۔ فیکٹریوں کا یہ ہی گندہ پانی خشک ہونے پر ایک پاؤڈر یا یوں کہیں سفوف بن جاتا ہے جو اڑ کر سانس لینے سے انسانی جسم میں جاکر نقصان پہنچاتا ہے۔ صحتِ عامہ کے مسائل کی بات کی جائے تو یہاں بسنے والے لوگوں کو صرف ارد گرد پھیلی آلودگی، سفید دھوائیں کے بادل، اور بے ہنگم شور ہی نہیں بلکہ کئی سنجیدہ نوعیت کی بیماریوں کا بھی سامنا ہے، جس میں گردوں کی بیماری بھی شامل ہے۔ یہاں کہ مکینوں کے دن کا آغاز فیکٹریوں ، کارخانوں اور ورکشاپس سے نکلنے والی چنگاڑتی آوازوں، کنٹروں کی چیخوں اور بعد ازاں سفید برادے سے ہوتا ہے، جو سارا سارا دن ان کے اعصابوں کو شل کردیتے ہیں۔ یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تازہ ہوا کیلئے گھروں سے باہر نکلیں اور چہل قدمی کریں، تاہم اسے ماحول میں یہ باتیں ان لوگوں کیلئے ایک خواب ہے۔ اس سے نکلنے والا فضلہ، گندہ پانی اور کچرا صرف انسان ہی نہیں بلکہ علاقے کی آب و ہوا کو بھی متاثر کرکے آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔

کیا آپ جو مرغی کھاتے ہیں وہ محفوظ ہے؟

ایک فیکٹری مالک نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان کی فیکٹری سے بھیجا جانے والا ضائع شدہ ماربل اور موزیک پولٹری فارمز والوں کو دیا جاتا ہے، جو اس کو پاؤڈر بنا کر مرغیوں کے کھانے کی فیڈ بناتے ہیں۔ جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ ، کیا یہ زہر نہیں ؟ تو وہ بڑے معصومانہ انداز میں بولے کہ نہیں۔ پولٹری فارمز والے یہ مال خوشی سے خریدتے ہیں، کیوں کہ اس پتھر میں قدرتی طور پر گرمی ہے۔ جس کو کھا کر مرغی کا وزن بڑھتا ہے اور مرغیاں موٹی ہوتی ہیں۔

یہ کچرا کارآمد بھی ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ فیکڑیوں اور کارخانوں کے باہر جمع یا کچرا کنڈیوں کی نذر کیا جانے والا یہ ماربل اور کچرا ری سائیکل کرکے بہت کام بھی آسکتا ہے۔ اس ماربل کو سڑکیں بنانے، پارکوں کی زمینوں یا ایسی ہی کسی دوسرے پبلک مقام یا کسی خراب سڑک کو ٹھیک کرنے میں استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ اس ماربل کے استعمال سے سڑکیں کانکریٹ اور سیمنٹ سے بھی زیادہ پائیدار بن سکتی ہیں۔ ماربل کے چھوٹے بڑے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو اکثر اینٹی کرافٹ والے بھی لے جاتے ہیں۔جو اپنی نقش و نگاری میں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسی مفت میں اور کچھ اسی گھر آتی لکشمی سمجھ کر پیسوں میں دیتے ہیں۔

ایک سوال پر کہ یہ تو آپ کیلئے فالتو مال ہے تو پیسے کیوں، اس پر ایک صاحب کا کہنا تھا کہ آج کے زمانے میں کوئی اپنا کچرا بھی مفت نہیں دیتا۔ یہاں سے یہ تمام ملبہ اور فالتو سامان اٹھانے کیلئے فی گاڑی 400 سے 500 روپے لے کر کچرا اٹھاتی ہے۔ جو حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ یہ لوگ خود فون کرکے گاڑیوں کا انتظام کرتے ہیں۔ اس علاقے میں کوئی لگ بھگ 100 کے قریب ایسے کارخانے ہیں، جو اپنی مدد آپ کے تحت اسی رہائشی علاقوں پاس بنی کچرا کنڈیوں یا ندی کنارے پھینک کر اپنا اولین فرض پورا کرتے ہیں۔

فیکٹری مالک

۔42 سالہ محمد نعیم اسی علاقے کی ایک فیکٹری کے مالک ہیں اور گزشتہ 25 سال سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ جب ہم ان کے پاس درپیش مسائل پر بات کرنے پہنچے تو، ان کے پاس کچھ اور ہی داستاں ہمیں سنانے کیلئے موجود تھی۔ محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس زیادہ تر بلوچستان اور پھر پشاور سے ماربل آتا ہے۔ اگر ٹرک اپنے مخصوص اوقات کار پر چلیں اور کانوں سے مال بروقت نکال جائے تو روزانہ کے 100 ٹرک بنتے ہیں، تاہم کبھی یہ تعداد گھٹ کر 20 سے 30 بھی ہو جاتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مزدور جدید آلات اور مشینری سے محروم ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پہاڑوں سے انہیں یہ قیمتی ماربل اپنے ہاتھوں کو زخمی کرکے نکالنا پڑتا ہے۔ کچھ مزدور تو ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی حفاظتی دستانے یا آوزار کے انہیں نکالتے ہیں۔ جس سے قیمتی ماربل کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف کاروباری افراد کو فائدہ ہے، بلکہ حکومت اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ محمد نعیم کا مزید کہنا تھا کہ یہ ماربل عمارتیں بنانے کے کام بھی آسکتا ہے۔ اس سے عمارتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ ہم نے حالیہ بارشوں میں عمارتوں اور گھروں کا حال دیکھا، اگر ہم یہ ماربل ضائع ہونے کے بجائے عمارتوں کے استعمال میں لگائیں تو اس سے مضبوط عمارتیں بننے گی۔ کیوں کہ یہ ایک مضبوط پتھر ہے۔ جس سے آنے والی نسلوں کو بھی مضبوط بنیادیں ملیں گی۔

دلچسپ معلومات

پاکستان میں ماربل اور گرینائٹ کے 300 ارب ٹن کے ذخائر موجود ہیں۔ جن کا شمار دنیا کے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے، جس میں سے زیادہ تر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجود ہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا حصہ ہونے کے باوجود عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ صرف 2 فیصد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹنگ سے حاصل ہونے والا ماربل زیادہ تر ضائع ہو جاتا ہے، جس کا تناسب تقریباً 80 فیصد ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے آنے والا ماربل مختلف رنگوں کا ہوتا ہے۔ بلوچستان سے برآمد ہونے والا ماربل گرین شیڈ، یالو شیڈ ہے،آف وائٹ ہے، براؤن رنگ ہے، جب کہ پشاور سے آنے والا ماربل سفید ، نوشہرہ سے آنے والے ماربل کو نوشہرہ پنک کے نام سے جانا جاتا ہے جو لال رنگ کا ہوتا ہے، سنی گرے، یعنی گرے رنگ کا ہوتا ہے۔

دیہاڑی دار مزدور

فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا تھا کہ جان اور صحت داؤ پر لگا کر بھی وہ نہیں کماسکتے، جو کمانا چاہیئے، جہاں ہر چیز مہنگی ہوئی ہے، وہیں بجلی کے فی یونٹ میں اضافے سے ان کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچا ہے، جو منافع فیکٹری یا کارخانے والے کماتے ہیں وہ آدھے سے زیادہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں نکل جاتا ہے۔

ایک مزدور کا کہنا تھا کہ تمام مسائل کے باوجود ہمارا روزگار چھین نہیں بلکہ مل رہا ہے۔ اس بات سے قطعیٰ نظر کے دن رات یہاں کام کرنے کے باوجود ہم بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، تاہم گھر کا چولہا جلانے کیلئے ایسے حالات میں بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔

سید صلاح الدین اسی علاقے کی ایک فیکٹری میں گزشتہ 34 سال سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ روز رات کو جب گھر واپس جاتے ہیں تو نہا دھو کر گڑ کھا لیتے۔ اس سے جسم کے اندر جانے والا ماربل کا غبار انہیں نقصان نہیں پہنچاتا، کیوں کہ گڑ میں خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کو ختم کردیتا ہے۔

سیپا

کراچی میں صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں سے متعلق معاملات کو دیکھنے کیلئے بنایا گیا ماحولیاتی مسائل کا ادارہ سندھ انوائرمنٹیل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں میں الودگی سے متعلق سرگرمیوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے سندھ انوائرمنٹیل پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر ادارے کام کرتے ہیں اور ایسی جگہوں کے دورے بھی کرتے ہیں اور ان کے خلاف ایکشن بھی لیتے ہیں۔ جیسے ہم نے اینٹوں کے بھٹوں کو بند بھی کروایا ہے، جو کہ رہائشی علاقوں میں قائم تھے اور نہ صرف انسانی صحت بلکہ آلودگی کیلئے بھی خطرہ تھے۔ سیپا کا کہنا تھا کہ یہ کھلم کھلا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور سیپا اکثر ایسے اقدامات کے خلاف ایکشن لیتی ہے، تاہم ایسا ایکشن نہیں لیا جاسکتا کہ انہیں یہاں سے کہیں اور منتقل کردیا جائے۔ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سیپا کا کہنا تھا کہ منگھوپیر کے علاقے میں ایسے کئی کارخانوں اور ورکشاپس کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، جس کے بعد انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کے کورٹ میں پیش بھی کیا گیا۔ ان لوگوں پر جرمانہ بھی عائد اور اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنا فضلہ اور کچرا ایسے ٹھکانے لگائے اور پھینکیں جس سے کم سے کم ماحولیاتی آلودگی ہو۔ پاک کالونی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ کارخانے ، ورکشاپس اور فیکٹریاں چوں کہ رہائشی علاقوں میں قائم ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو لوگوں نے اپنے گھروں میں بنا رکھے ہیں، جس کیلئے اعلیٰ انتظامیہ کو خط لکھ دیا گیا ہے کہ ایسے گھروں سے متعلق پالیسی بنا کر فیصلہ کیا جائے، کیوں کہ بڑے ایکشن کی صورت میں یہاں کی آبادی بھی متاثر ہوگی۔ کیوں کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ سیکٹروں کی تعداد انہیں گرفتار کرکے بند کردیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا کوئی حل تلاش کیا جائے کہ کمرشل معاملات بھی چلتے رہیں اور لوگ بھی اس سے متاثر نہ ہوں،اسی کو ہم دیرپا حل ( سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ) کہا جاتا ہے۔

ماہرین صحت

اس سلسلے میں جب ہم نے سینیر پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی سے بات کی تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ ماربل کو اگر بغیر پانی میں رکھ کر کاٹا جائے تو اس سے ایک خطرناک غبار نکلتا ہے، جسے سلیکا کہتے ہیں۔ یہ غبار پھیپھڑوں کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ اگر یہ پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو نہ صرف یہ کہ پھیپھڑوں کی نازک جھلیاں متاثر کرتی ہیں اور اس میں فائبنوسز کرنے لگتی ہیں۔ جس سے سانس کی نالیں سکڑ جاتی ہیں اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ شکایات عموماً ایسے لوگوں کو ہوتی ہیں، جو براہ راست ماربل، پتھر توڑنے یا کانوں میں کام کرتے ہیں اور اس سے نکلنے والے غبار سے متاثر ہوتے ہیں، جس میں مزدور اور وہاں کام کرنے والے دیگر افراد ہیں۔ اس کو ہم سیلیکوسس کہتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلیکوسس کا آگر بروقت نہ روکا جائے اور اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ آگے چل کر کینسر جیسے موذی مرض میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے اور ایسے لوگوں میں ٹی بی کے امکانات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔

ایک سوال میں کہ جن لوگوں کا روزگار ہی ایسے کاروبار سے وابستہ ہے یا جن لوگوں کی مستقل رہائش ہی ایسے علاقوں میں ہے تو وہ لوگ کیا کریں؟، جس پر پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ لوگ جو ایسے علاقے کے رہائشی ہیں وہ بہت کچھ تو نہیں کرسکتے ، مگر اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ کوشش کریں کہ باہر خصوصاً نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال ضرور کریں، خود بھی پہنیں اور گھر والوں کو بھی تلقین کریں، کیوں کہ یہ گرد و غبار ہوا میں موجود رہتا ہے۔ ماسک آپ کو ایسے غبار سے بچاتا ہے۔ مزدوروں اور دیگر ورکرز سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایسی جگہوں پر کام کرنے والے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے یا انہیں وہ سہولیات میسر نہیں، وہ زیادہ سے زیادہ اپنے منہ کو کپڑے سے ڈھانپ لیتے ہیں، جو درست نہیں، کپڑا انہیں وہ تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ انہیں چاہیئے کہ وہ مکمل تحفظ کیلئے پروٹیکٹڈ گیر استعمال کریں اور جو بھی کٹنگ ہو وہ پانی کے اندر رکھ کر کی جائے تاکہ اس کا غبار اڑ کر سانس میں داخل نہ ہو۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم کا کہنا تھا کہ ایسے بچے جو ان علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں یہ ان کے پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور ان کے سانس لینے کی قوت کم ہوتی جاتی ہے۔ کیوں کہ اوسطً 25 سال کے بعد یہ ایک قدرتی عمل ہے کہ آپ کے سانس لینے کی طاقت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جو بچے ایسے ماحول میں رہتے ہیں ان کے سانس لینے کی رفتار دیگر عام بچوں کی نسبت کم ہوگی۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، ہمارے سانس کی قوت بڑھتی ہے۔ تاہم جن بچوں کی دھول مٹی میں پرورش ہوگی، ان میں وہ قوت اتنی نہیں ہوگی۔ ان کے پھیپھڑوں اتنے زیادہ مضبوط اور طاقت ور نہیں ہونگے۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی جناح اسپتال سے گزشتہ 25 سال تک منسلک رہے ہیں۔ انہوں نے بطور ہیڈ یہاں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آج کل وہ ایک صحت عامہ سے متعلق قائم سوسائٹی کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

اس مضمون میں شامل افراد کی شناخت ظاہر نہ کرنے کیلئے ان کے نام  تبدیل کیے گئے ہیں۔

HEALTH

POLLUTION

MARBLE

Tabool ads will show in this div