ڈینئیل پرل قتل کیس،ملزمان کی رہائی روکنےکےحکمنامےمیں توسیع سےانکار

تیاری کیلئے21اکتوبر تک کی مہلت دے دی
[caption id="attachment_1891497" align="alignnone" width="640"] امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو 2002 میں کراچی میں اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا تھا،(فائل فوٹو)۔[/caption]

سپریم کورٹ نے ڈینئیل پرل قتل کیس کے4 ملزمان کی رہائی روکنے کے حکم نامے میں توسیع سے انکار کردیا۔

سپریم کورٹ نےاپیل کنندہ سندھ حکومت کے وکیل کو ڈینیئل پرل کیس کی تیاری کیلئے21اکتوبر تک کی مہلت دے دی ہے۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ جیل میں رہنے والے بعد میں بری ہوجائیں تو مداوا ممکن نہیں، بریت کا فیصلہ ٹھوس وجوہات کے بغیر معطل نہیں کرسکتے۔

عدالت عظمٰی میں دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل سندھ ڈاکٹرفیض شاہ نےبتایا کہ گزشتہ سماعت کا حکم نامہ 5 اکتوبر کو ملا اس لئے دستاویزات تیار نہ کرسکا،کیس میں مرکزی اپیلیں جمع ہیں لیکن مزید دستاویزات جمع کرانے کیلئے مہلت چاہئے۔

جسٹس مشیرعالم نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے ملزمان کو بری کردیا تو سندھ حکومت انہیں جیل میں کیوں رکھنا چاہتی ہے،ملزمان کو پہلے ہی انتظامی آرڈر کے تحت نظربندکیا جاچکا ہے،عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عدالت کے باہر کیا ہو رہا ہے،جیل میں رہنے والے بے گناہ قرار پائیں تو مداوا ممکن نہیں۔

انھوں نےمزید ریمارکس دئیے کہ مختاراں مائی کیس کے ملزمان بھی جیل میں رہنے کے بعد بری ہوئے۔عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر وکلا کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری  کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت  کرتے ہوئے سماعت 21 اکتوبرتک ملتوی کردی۔

Tabool ads will show in this div