الیکشن میں دھاندلی، کرغزستان کے عوام کا پارلیمنٹ پر قبضہ

الیکشن کالعدم قرار
Oct 06, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/KG1-1.mp4"][/video]

کرغیزستان کے عام انتخابات میں دھاندلی پر مشتعل عوام نے پیر کی شب پارلیمنٹ ہاؤس اور ایوان صدر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق کرغزستان کے الیکشن کمیشن نے دارالحکومت بشکیک اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

حزب اختلاف کے حامیوں نے گزشتہ رات سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے سابق صدر کو جیل سے رہا کروایا اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس اور دیگر فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے اور ایک شخص دم توڑ گیا۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ نورزاں شیلڈ کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کو غیرقانونی قرار دینے کا فیصلہ فیصلہ ملک کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لئے کیا گیا۔

کمیشن کے اعلان سے قبل مبینہ دھاندلی سے منتخب ہونے والے صدر سورون بائی جین بیکوف نے الزام عائد کیا تھا کہ بعض سیاسی قوتیں غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں اپوزیشن پر زور دیا کہ لوگوں کو سڑکوں سے ہٹائیں۔

پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان اتوار کو کیا گیا۔ اس کے بعد بشکیک اور ملک کے دوسرے شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ اقتدار میں آںے والی دو جماعتوں نے ووٹوں کی خریداری کے ساتھ بڑے پیمانے پر دھاندلی کی ہے۔

پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن، آنسوگیس اور دستی بموں کا استعمال کیا مگر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عوام کے سمندر سے بے بس ہوکر فورسز کے اہلکار واپس بھاگ رہے ہیں۔ کرغزستان کی وزارت صحت کے مطابق پولیس سے جھڑپوں میں 590 افراد زخمی ہوئے اور ایک شخص کی موت ہوگئی۔

پولیس اور دیگر فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے باوجود رات کے وقت مظاہرین حکومتی کمپلیکس میں گھس گئے جہاں پارلیمنٹ اور صدارتی دفتر موجود ہیں۔ مظاہرین نے بشکیک کے سٹی ہال کا کنٹرول بھی سنبھالا۔

مظاہرین کے ایک اور گروپ نے کرغزستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے دفتر کا گھیراو کرکے سابق صدر المازبک اتم بائیف کی رہائی کا مطالبہ کیا جسے رواں بدعنوانی کے الزامات 11 سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مظاہرین سے مذاکرات کے بعد سکیورٹی افسران نے ان کو رہا کردیا۔

حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں کے اراکین نے موجودہ صدر سورون بائی جین بیکوف کو ہٹاکر نئی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

چون کازت پارٹی کے ایک ممبر ، مکسات ممیتکونوف نے بتایا کہ ہم صدر سورون بائی جین بیکوف کو ان کے عہدے سے برخاست کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں نیا آئین بنانے پر اپوزیشن جماعتوں کو متفق کرنے کی کوشش کریں گے۔

حزب اختلاف کی ایک اور جماعت کے رہنما زنار اکیئیف کا کہنا ہے کہ ایک نیا وزیر اعظم اور عوام کی حکومت کا تقرر ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد ملک میں ایسے شفاف انتخابات کروائیں گے جس پر کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔

کرغیز صدر نے ایک بیان میں کہا کہ میں نے مرکزی انتخابی کمیشن کو تجویز کی کہ وہ دھاندلی کے الزامات کی مکمل تحقیقات کریں اور اگر ضرورت ہو تو ووٹ کے نتائج کو منسوخ کریں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ہزاروں مظاہرین حکومتی کمپلیکس کے باہر جمع ہیں اور مرکزی گیٹ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے فائر ڈٰیپارٹمنٹ کے اہلکاروں سے ٹرک چھینا اور وہ گیٹ سے ٹکرا کر اندر داخل ہوئے۔

مظاہرین پارلیمنٹ ہال میں داخل ہوئے اور اسپیکر سمیت ارکان پارلیمنٹ کی کرسیوں پر بیٹھے رہے جبکہ کچھ مظاہرین صدر کے دفتر اور میٹنگ ہال میں بھی گھسے۔ جہاں مظاہرین نے خود چائے بناکر اپنے ساتھیوں کو پلائی۔

Mass Protest

Tabool ads will show in this div