نوازشریف کی جائیداداوراثاثے ضبطگی،13اکتوبرتک عملدرآمدرپورٹ طلب

تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا
Oct 06, 2020

احتساب عدالت نےتوشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی جائیداد اوراثاثے ضبطگی کے معاملے پر 13 اکتوبر2020 تک عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔

توشہ خانہ ریفرنس میں نوازشریف کی جائیداد ضبطگی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا ہے۔ تحریری حکم میں بتایا گیا ہے کہ اشتہاری ملزم نواز شریف کےریفرنس میں ظاہر شدہ اثاثے ضبط کئے جائیں۔

تحریری حکم میں چئیرمین ایس ای سی پی،ڈی سی لاہور،شیخوپورہ،راولپنڈی،ایبٹ آباد کوحکم پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

ای ٹی اولاہور، اسلام آباد کو گاڑیاں ،نجی بنکوں کو بنک اکاونٹس قرق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کی پراپرٹیز، گاڑیوں،بنک اکاؤنٹس قرق کرنے سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی جائے۔

واضح رہے کہاحتساب عدالت میں جمع کی جانے والے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف 4کمپنیوں میں شیئرز کےمالک ہیں۔ محمدبخش ٹیکسٹائل ملزمیں 4 لاکھ 67 ہزار950،حدیبیہ پیپرملز میں 3 لاکھ 43 ہزار 425،حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی میں 22 ہزار 213 اور اتفاق ملز میں بھی 48 ہزار 606 شیئرز ہیں۔

سابق وزیراعظم کے نجی بینکوں میں 3 فارن کرنسی اکاؤنٹس سمیت 8 اکاؤنٹس ہیں۔5 اکاؤنٹس میں 6 لاکھ 12 ہزارروپے جبکہ 3 فارن کرنسی اکاؤنٹس میں 566 یورو، 698 امریکی ڈالرز اور 498 برطانوی پاؤنڈز موجود ہیں۔

نوازشریف اوراُن کےزیرِکفالت افرادکےنام لاہور، مری اور ایبٹ آباد میں جائیدادوں کےعلاوہ 1752 کنال زرعی اراضی کے مالک ہیں۔مری میں بنگلہ،چھانگلہ گلی ایبٹ آباد میں 15 کنال کا مکان اوراپرمال لاہور پر جائیداد شامل ہے۔

لاہور کےموضع مانک میں 936 کنال،بڈوکسانی میں 299 کنال،رائےونڈمیں 103 کنال،سلطان کےمیں 312 کنال اراضی موجود ہے۔شیخوپورہ کےموضع منڈیالی میں 14 کنال اورفیروزوطن میں 88 کنال اراضی کےعلاوہ 4 قیمتی گاڑیاں اور2 ٹریکٹرزبھی میاں نوازشریف کےنام ہیں۔

یکم اکتوبربروز جمعرات کو احتساب عدالت نےتوشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کےاثاثےضبط کرنےکاحکم دیا۔نیب نےنوازشریف کےاثاثوں کاریکارڈ عدالت میں پیش کياتھا جس کا عدالت نے حکم دیا تھا۔عدالت نے حکم دیا کہ نیب فہرست کےمطابق نوازشریف کےاثاثےضبط کئےجائیں۔

احتساب عدالت نے حکم دیا کہ کیوںکہ نوازشریف اشتہاری ہوگئے ہیں اس لئے ان کے جتنے بھی پاکستان میں بینک اکاؤنٹس،گاڑیاں اوراثاثےہیں ان کو ضبط کرلیا جائے۔

توشہ خانہ ریفرنس میں مسلسل عدم پیشی پر نوازشریف کے پہلے اشتہار جاری کئے گئے تھے اور پھر اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کا مقدمہ الگ کیا گیا تھا۔

Tabool ads will show in this div