دیس کےبسکٹ سےمہوش حیات کےجواب تک

معاملے پر2حکومتی وزرا میں ٹھن گئی
Oct 07, 2020

ٹیلیویژن پرگالا بسکٹ کے ایک اشتہار سے متعلق سینئرصحافی انصارعباسی کی ٹویٹ نے جہاں سوشل میڈیا صارفین کو بحث کیلئے ایک نیا موقع فراہم کیا وہیں گزشتہ سال تمغہ امتیاز حاصل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنائی جانے والی اداکارہ مہوش حیات بھی ایک بارپھرسے نشانے پرہیں۔

اس پراڈکٹ کے دیس کا بسکٹ ہونےکا دعویٰ کرنے والی کمپنی نے پہلی بارایسا اشتہار نہیں بنوایا جو مکمل طور پرگانے وڈانس پرمبنی ہوالبتہ اس سال تھیم کا نام " دیس کے قصے " رکھا گیا تھا۔ کمرشل میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کرنے والی مہوش حیات نے اسے ثقافتی تنوع قراردیا۔

سوشل میڈیا پرسب سے پہلا ردعمل انصارعباسی کا سامنے آیا جنہوں نے بسکٹ بیچنے کیلئے اس کمرشل میں دکھائے جانے والے ڈانس کو مجراکہتے ہوئے پیمرا کے کردارپرسوال اٹھایا اور ساتھ ہی وزیراعظم سے بھی پوچھا کہ کیاآپ کوئی ایکشن لیں گے۔

اس ایک ٹویٹ کے بعدٹوئٹرپرتانتا بندھ گیا، کمرشل کو آئٹم سونگ کا نام تک دیا گیا، بیشترنے انصارعباسی کے موقف کی حمایت کی تو کئی ایسے بھی تھے جنہں اس اشتہارمیں کوئِی خرابی نظرنہیں آئی۔ سیاسی سطح پردیکھاجائے توحکومت کے 2 وزراء کے درمیان بھی اس معاملے میں ٹھن گئی۔

وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ ہماری حکومت کا وژن مدنی ریاست کا ہے اور خان صاحب بیہودگی کے خلاف ہیں، دوسری جانب وفاقی وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری جو کہ لگتا ہے کہ قلمدان تبدیل ہونے کے بعد بھی وزرات اطلاعات ونشریات کو نہیں بھولے، نے اپنے ردعمل میں انصارعباسی اور علی محمد خان کو 24 گھنٹے فحاشی تلاشنے کا الزام دیتے ہوئے کوئی تعمیری کام بھی کرلینے کا مشورہ دے ڈالا۔

عوامی ردعمل کے بعد پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی جس میں پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن(پی بی اے)، پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن(پی اے اے) اور پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی (پی اے ایس) کومذکورہ اشتہار کے مواد پر نظرثانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز پرنشرکردہ عام مصنوعات جیسا کہ بسکٹس، سرف وغیرہ کے اشتہارات کا مواد ان مصنوعات سےمطابقت نہیں رکھتا۔

پیمرا کےمطابق یہ رجحان ناظرین میں بے سکونی پیدا کرنے کے علاوہ ان کا طرزعمل متاثر کررہا ہے، یہ شائستگی کے قابل قبول معیارات اور پاکستانی معاشرے کی سماجی و ثقافتی اقدار کی بھی خلاف ورزی ہے۔صارفین ایسے نامناسب اشتہارات نشر کرنے کی اجازت دینے پرٹوئٹر، سوشل میڈیا / واٹس ایپ پر پیمرا کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس سارے میں اداکارہ مہوش حیات کا ردعمل یہ رہا کہ انہوں ٹوئٹرپر اپنی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئرکرتے ہوئے کسی سے مخاطب ہوئے بغیر لکھا "مجھے آپ کی منظوری کی ضرورت نہیں ڈارلنگ، میرے پاس اپنا اجازت نامہ ہے"۔ سمجھنے والے سمجھ گئے کہ مہوش کا اشارہ کس کی جانب ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب گالا بسکٹ بنانے والی کمپنی کی جانب سے اتنے خطیر سرمائے کے ساتھ اس نوعیت کا کمرشل سامنے آیا ہوا، دیکھنے والوں کو اگر یاد ہو تو 2013 میں دیس کے اس بسکٹ کے ٹی وی سی نے کسی پنجابی فلم کے ہٹ سونگ کو بھی مات دے دی تھی۔ گانے کا ایک جملہ تھا "دل کی پتنگ اور پیارکے مانجھے، اک ہیر اور کتنے رانجھے"۔

[iframe width="100%" height="360" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0" marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/PKxWcjw_hDM"]

اس کمرشل میں اداکارہ نوربخاری جو اب شوبزکوخیرباد کہہ چکی ہیں ، چمکیلے بھڑکیلے لباس اورکم وبیش اسی اندازکے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے جلوہ گرہوئی تھیں لیکن تب شاید سوشل میڈیا ہماری زندگیوں پراتنا اثراندازنہیں ہواتھا۔

PEMRA

GALA BISCUIT

ANSAR ABBASI

Tabool ads will show in this div