کراچی ازخود نوٹس سماعت، عاصمہ جہانگیر کی متحدہ پر الزامات کی بارش

اسٹاف رپورٹ

کراچی: شہر قائد میں بدامنی پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسڑی میں جاری ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے۔ یہاں شہریوں کا محفوظ نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ملک کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ملک بچانا ہے یا حکومت  کو بچانا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم دہشت گردی کا بڑا نیٹ ورک رکھتی ہے

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں لارجر بینچ ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔ دوران سماعت عدالت نے حکومت سندھ کو انسداد دہشت گردی کی تمام عدالتوں میں جج تعینات کرنے کی ہدایت کی اور سیکریٹری قانون کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ منی پاکستان میں شہریوں کا محفوظ نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔



ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ ملک بچانا ہے یا حکومت۔

آئی جی واجد علی دررانی نے عدالت میں چکراگوٹھ واقعے کی ایف آئی آر پڑھ کرسنائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی آر میں کامران مادھوری اور سہیل کمانڈو کا ذکر نہیں، جس پر آئی جی نے کہ وہ زیرحراست اور زخمی ہیں۔

 سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر نے دوران سماعت عدالت میں کہا کہ کراچی میں بھتہ کلچر ایم کیو ایم نے متعارف کرایا۔ دہشت گردی کا بڑا نیٹ ورک رکھنے والی ایم کیو ایم دس برسوں سے مسائل پیدا کر رہی ہے لیکن اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔

عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم اب بھی بھتہ خوری میں ملوث ہے۔ حالات خراب کرنے کی شروعات ہر بار ایم کیو ایم کرتی ہے۔ صحافی کے قتل میں کون ملوث ہے سب جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رینجرز ملزمان کو گرفتار کرکے پولیس کے سپرد کرنے کے بجائے خود تفتیش کرتی ہے۔ عدالت عظمیٰ میں کراچی سے اغوا کیے گئے 11 افراد کے اہلخانہ نے درخواست دائر کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔

اغوا کے بعد بازیاب ہونے والے انیس افراد نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور اغوا کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سماء

کی

burger

پر

بارش

Blasphemy

Nadeem Malik

Tabool ads will show in this div