مجھے کیوں نکالا؟، ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی کامعطلی پرنعرہ

جلیل شرقپوری کی نواز شریف کے تازہ بیانات پر تنقید
Oct 02, 2020

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/Ma-Jaleel-Sharaqpuri-1500-Montage-02-10.mp4"][/video]

مجھے کيوں نکالا؟ مسلم ليگ نون کے معطل ايم پی اے جليل شرقپوری پارٹی سے نکالنے پر پھٹ پڑے۔ اسلام آباد ميں ميڈيا سے گفتگو ميں کہا کہ وزيراعلیٰ پنجاب سے ملنا پارٹی منشور کی خلاف ورزی نہيں۔ انہوں نے نواز شريف کے حاليہ بيانات کو بھی تنقيد کا نشانہ بنايا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنیوالے ن لیگی ایم پی اے نے پارٹی کی جانب سے معطلی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے غيرقانونی نہيں، مطمئن ہوں، استعفیٰ کيوں دوں؟، اختلافِ رائے حق ہے، اس بنياد پر پارٹی سے نکالا گيا تو غير قانونی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی سے نکالا گیا تو نواز شریف کا نعرہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ میں استعمال کروں گا۔ جلیل شرقپوری نے واضح کیا کہ وزيراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخؒاف تحريک عدم اعتماد آئی تو ضمير کے مطابق رائے دوں گا۔

ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی نے نواز شریف کے حالیہ بیانات پر بھی تنقید کی، بولے کہ کيا انتشار پيدا کرنے، ٹکراؤ کرنے سے مہنگائی ختم ہوجائے گی؟، نواز شريف کی غير مناسب بات پر اختلاف کرنا غير قانونی نہيں۔

انہوں نے کہا کہ سياسی قائدين کو افراتفری سے گريز کرنا چاہئے، رياست کے خلاف کسی ریلی کا حصہ نہيں بنوں گا۔

PUNJAB

Tabool ads will show in this div