کراچی: بارشوں کے بعد چوہے کھانوں کو آلودہ کرنے لگے

لیپٹوسپائروسیس آنکھ، ناک اور منہ سے پھیل سکتی ہے

حالیہ دنوں کے دوران کراچی میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ نظر آیا۔ ایک شخص کو تیز بخار کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا جس میں کمی نہیں آرہ تھی۔

ڈاکٹرز اس کی وجوہات جاننے میں ناکام ہورہے تھے جبکہ کوئی بھی کام نہیں کررہی تھی۔ جب انہوں نے اس کی ہسٹری معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس شخص نے کچھ ایسا کھایا تھا جو چوہے کے پیشاب سے آلودہ تھا، جس کے بعد اس شخص میں لیپٹوسپائروسیس کی تشخیص ہوئی۔  شکر ہے اسے بالآخر اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

لیپٹوسپائروسیس بیکٹریا لیپٹوسپائرا سے پھیلنے والی بیماری ہے جو چوہوں کی غلاظت سے پھیلتی ہے۔ اس سے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسان بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ متاثرہ چوہے یہ بیماری پیشاب کے ذریعے اور کاٹنے سے دوسروں میں پھیلاتے ہیں۔ یہ جسم میں کٹ اور رگڑ کے علاوہ آنکھوں، ناک اور منہ کے ذریعے بھی داخل ہوسکتا ہے۔

بیماری کی علامات یہ ہیں:۔

تیز بخار

شدید سر درد

پٹھوں میں درد

سردی

آنکھوں کا سرخ ہونا

پیٹ میں درد

یرقان

جلد سے خون کا رساؤ، ناک، آنکھ اور منہ

الٹیاں

اسہال

سنگین صورتحال میں یہ جگر اور گردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

عام طور پر برسات کے موسم میں یہ کیسز عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ باہر کام کرنیوالے اور زرعی کارکنوں کو شدید خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔

چوہوں اور ایسے دیگر جانوروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں؟

طاعون

ہنٹا وائرس

لسا فیور

لمفوسائٹک کوریو۔میننگیٹس

ریٹ بائٹ

بخار

سلمونیلوسیس

بیماریاں پھیلنے کا طریقہ لیپٹوسپائروسیس جیسا ہے۔ بیماری پھیلانے کا مؤجب مائیکروب کٹ یا رگڑ والی جگہ، آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ چوہوں کے پیشاب یا گندگی سے آلودہ دھول مٹی میں سانس لینے یا براہ راست زندہ یا مردہ چوہے کو چھونے سے بھی پھیل سکتا ہے۔

سماء ڈیجیٹل نے کراچی میں آلودہ کھانوں اور ایسے مقامات جہاں پر چھاپوں کے دوران ایسا کھانا ملا، پر کچھ فوڈ انسپکٹرز سے بات چیت کی۔

سندھ فوڈ اتھارٹی سے تعلق رکھنے والے فوڈ سیفٹی آفیسر نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر انسپکشنز کا سلسلہ جاری رہتا ہے، البتہ آلودہ کھانا غیر متوقع چھاپوں بالخصوص کسی کے اطلاع دینے کے بعد ہی سامنے آتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر دکانوں اور ان کے پروسیسنگ پلانٹس کی حالت انتہائی غیر صحت مند ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مٹھائی انڈسٹری کے صرف کچھ بڑے نام ہی سندھ فوڈ اتھارٹی کی جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ مٹھائی کی دکانوں پر پائے جانے والی آلودگی میں امونیا، کیڑے مار دوا اور چوہے مار دوا شامل ہیں۔

امونیا صفائی اور دیگر کاموں میں استعمال کی جاتی ہے تاہم بد انتظامہ خطرناک رساؤ کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری، الرجی، کیمیکل برن اور بالآخر موت بھی واقع ہوتی ہے۔

کیڑے مار دوا چوہوں کو مارنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے جس سے کھانا زہریلا اور فوری موت کی وجہ بن سکتا ہے۔ فوڈ سیفٹی آفیسر نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم سند یافتہ ماہرین کے ذریعے فیومیگیشن کی تجویز دیتے ہیں۔

ایک ریٹائرڈ فوڈ انسپکٹر جو کے ایم سی کیلئے کام کرتے تھے، کا کہنا ہے کہ کورنگی، جیکب لائنز اور نیو کراچی میں حفظات صحت کی حالت خاص طور پر مٹھائی کی دکانوں اور پودوں کی وجہ سے خراب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں انہیں متعدد بار نوٹس جاری اور سیل کیا جاچکا ہے، زیادہ تر ملاوٹ آٹا، ہلدی، دودھ اور چائے کی پتی میں پائی جاتی ہے۔

فوڈ انسپکٹر کا کہنا تھا کہ کے ایم سی فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے وقت میں کئی آئل ریفارئننگ فیکٹریوں پر چھاپہ مارا تھا اور انہیں غیر معیاری تیل فراہم کرنے میں ملوث پایا تھا کیونکہ وہ بوائلنگ پروسیس پر پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ناقص معیار کے تیل کی ساخت نیم ٹھوس ہوتی ہے جو حلوے کی طرح لگتا ہے جبکہ اچھے معیار کا تیل مکمل طور پر مائع ہوتا ہے۔

لیپٹوسپائرا کے باعث شدید بیمار ہونے والے شخص کا علاج کرنیوالوں میں شامل ایک ڈاکٹر نے سافٹ ڈرنکس کو براہ راست کین کے ذریعے پینے سے بھی خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ چوہے ان ڈبوں کے اوپر گھومتے ہیں، ان کے پیشاب اور گندگی کے اثرات ان پر بھی ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ کین کو براہ راست منہ سے لگا کر نہ پیا جائے بلکہ اسٹرا (نلکی) استعمال کی جائے۔

HEALTH

Tabool ads will show in this div