کالمز / بلاگ

جب گہرائی نے بچا لیا

Residents search for belongings in the rubbles of a house after it was damaged by an earthquake in Peshawar

نوید نسیم

اکتوبر کے آخری ہفتے کے پہلے دن یعنی سوموار کو آنے والے زلزلے سے پاکستانیوں کی پھر سے 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ جب 7.6 شدت کے زلزلے نے پنجاب، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے علاقوں کو ہلا کر رکھ  دیا تھا اور جسمیں تقریباً 88 ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بنے۔

پیر کو آنے والے زلزلے کی شدت 8.1 تھی۔ جو کہ 2005 کے زلزلے کی نسبت زیادہ تھی۔ مگر خوش قسمتی سے ہلاکتوں کی تعداد ابھی تک 300 سے زائد ہے۔ جو کہ 8 اکتوبر 2005 کو ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں کم ہے۔ اکتوبر کی 26 تاریخ کو آنے والے زلزلے میں کم تباہی اور کم ہلاکتوں کی بنیادی وجہ زلزلے کی کم گہرائی اور زلزلے کے مرکز کی پاکستانی علاقوں سے دوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے وہ علاقے جو افغانستان سے قریب ہیں۔ وہاں زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ زلزلے کا مرکز افغانستان کے صوبے بدخشاں کا علاقہ فیض آباد تھا۔ جبکہ 2005 کے زلزلے کا مرکز آزاد کشمیر کے علاقے مظفر آباد سے صرف 19 کلو میٹر دور تھا۔ جس کی  وجہ سے مظفر آباد کے  قریبی علاقے بالاکوٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور باغ  زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

PAKISTAN-AFGHANISTAN-INDIA-QUAKE

پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز قدرے دور ہونے کے علاوہ اس بار زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی تباہی کم ہوئی۔ 2005 کے زلزلے کی گہرائی صرف 15 کلومیٹر تھی۔ جبکہ پیر کو آنے والے زلزلے کی گہرائی 196 کلومیٹر تھی۔ جس کی وجہ سے بھی زلزلے کی شدت 2005 کے زلزلے کی شدت سے زیادہ ہونے کے باوجود تباہی کافی حد تک کم ہوئی۔ 2005 اور 2015 میں آنے والے زلزلوں میں ماہِ اکتوبر مشترک ہونے کے علاوہ  مشترک یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹس کا ٹکراؤ ہے۔ جس کی وجہ سے پلہے  7.6 اور اب 8.1 شدت کے زلزلے آئے۔

CSPZQ2OWIAAfAz2

جیالوجیکل ماہرین کے مطابق انسان ہی زلزلوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں اور اس کی اہم وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔ جو کہ ٹریفک اور فیکٹریوں کے دھوئیں سے بڑھتی جارہی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ہمالیہ کے عظیم گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے زمین پر ٹھوس مادے اور سمندروں میں پانی کا تناسب خراب ہورہا ہے۔ گلوبل وارمنگ پر اگر قابو نا پایا گیا تو شدید تباہی آسکتی ہے۔ ماہرین کا مزید ماننا ہے کہ پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہورہا ہے اور اس کی تازہ مثال ماہِ  اکتوبر میں پاکستان کے کچھ علاقوں میں ہونے والی برف باری اور بارشیں ہیں۔ جو وقت سے پہلے اور روٹین  سے زیادہ ہوئی ہیں۔

000_Del6455790-e1445920981368

ایک رپورٹ کے مطابق 2050 تک دریائے سندھ میں پانی کی مقدار میں شدید کمی ہو جائیگی۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو زراعت کے لئے درکار پانی ناپید ہوجائیگا۔ انہی موسمیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے دنیا کے ترقی پزیر ممالک ان تبدیلیوں کے ان کی زندگییوں پر ہونے والے اثرات سے بچنے کے لئے منصوبہ سازی میں مصروف ہے۔ ماہرین اس حقیقت کو بھی آشکار کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان اپنے موسمی حالات کی بنا پر قائم ہے اور پاکستان کا دارومدار ماحولیاتی نظام پر ہے۔ اگر پاکستان میں مون سون وقت سے پہلے یا تھوڑا دیر سے شروع ہوجائے تو ہماری زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ موجودہ حالات کے دیکھتے ہوئے اگر پاکستان مزید ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار بنتا ہے تو آنے والے کچھ سال میں فصلوں کی پیداوار پر برا اثر پڑسکتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں حکومت کرنے والی جماعتیں اور رہنما ابھی تک ماحولیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات سے غافل ہیں اور ہر حکومت عارضی مشکلات اور حزب اختلاف سے نبٹنے میں لگی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے ابھی تک کسی بھی حکومت کا دھیان مستقبل میں درپیش گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درہیش خطرات پر نہیں جاتا۔

KPK

GILGIT BALTISTAN

badkashan

Abbotabad

2005 earthquake

#earthquakeinpakistan

Shangla

quake

BALAKOT

Tabool ads will show in this div