کراچی سمیت سندھ بھرمیں مڈل،پرائمری اسکولزآج سےکھل گئے

تمام بچوں کیلئے فیس ماسک لازمی قرار
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2052076" align="alignright" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

کراچی سمیت سندھ بھر میں آج 28 ستمبر پیر سے آٹھویں سے نرسری تک کی جماعتوں میں آج سے تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے اداروں کو سخت ایس او پیز اپنانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد سندھ بھرمیں نجی اور سرکاری مڈل اسکولز ميں کلاسز کا آغاز ہوگیا ہے۔ نرسری سے آٹھويں جماعت کے طلبہ و طالبات ماسک لگا کر اسکول پہنچ گئے ہیں۔

اس موقع پر اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں جراثیم سے بچاؤ کا اسپرے بھی کیا گیا۔ جب کہ بچوں کو سختی سے صفائی اور ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی بھی سخت ہدایت کی گئی ہے۔

تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز پر بچے خوشی خوشی اسکول پہنچے۔ اس موقع پر اسکول اسٹاف، اساتذہ اور بچوں کا ٹیمپریچر بھی چیک کیا گیا۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

[caption id="attachment_2052081" align="alignright" width="779"] فائل فوٹو[/caption]

 چند تعلیمی ادارے کرونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز کو بہتر بنانے کے بعد یکم اکتوبر سے کھلیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نویں، دسویں، کالجز اور یونی ورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 15 ستمبر سے ہوگیا تھا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی ہدایت کے مطابق ایک کلاس روم میں بچوں کی آدھی تعداد کو بٹھایا جائے گا۔ اسکول میں بچوں کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دی جائے گی اور اس کو یقینی بنانا تعلیمی اداروں ذمہ داری ہوگی۔

والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر انہیں اسکول ہر گزنہ بھیجیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو ٹیسٹ کرائیں، کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر فوری اسکول انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ بغیر ماسک کے بچوں میں اسکول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بچے اسکول میں کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اور اسکول میں جھولا بھی نہیں جھولیں گے۔ محکمہ تعلیم کی مختلف ٹیمیں اسکولوں کا دورہ کریں گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کاجائز لیں گی۔

FACEMASK

Tabool ads will show in this div