لبنان کاسیاسی بحران شدیدتر، وزیراعظم حکومت سازی سے قبل مستعفی

مصطفیٰ ادیب کو ایک ماہ قبل وزیراعظم بنایا گیا تھا
Sep 26, 2020

لبنان کے نامزد وزیراعظم مصطفیٰ ادیب نے سیاسی کشیدگی کی وجہ سے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل نئی ملکی کابینہ تشکیل دینے کی کوششوں سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔

ہفتے کے روز ایک پریس ریلیز میں مصطفیٰ ادیب نے بتایا کہ لبنان میں حکومتی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی موافقت قائم نہیں رہی، انہوں نے واضح کیا کہ میرے معذرت کر لینے کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی گروپوں نے حکومتی تشکیل کو سیاسی رنگ نہ دینے کے حوالے سے میری شرط پوری نہیں کی۔

مصطفیٰ ادیب نے بابدہ (صدارتی) محل میں لبنانی صدر مشیل عون سے ملاقات کے بعد ٹیلی وژن پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت سازی کے عمل کو جاری رکھنے سے معذرت کرتا ہوں۔

انہیں گزشتہ ماہ کے اواخر میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے نامزد کیا گیا تھا، صدر مشیل عون نے مصطفیٰ ادیب کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بندرگاہ پر خوفناک دھماکوں کے بعد سابقہ حکومت 4 اگست کو اقتدار سے الگ ہوگئی تھی، ان دھماکوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے، دھماکوں سے بیروت شہر کا آدھا حصہ تقریباً تباہ ہوگیا تھا جبکہ ملک کو اربوں ڈالرز کا نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔

دوسری جانب لبنان کے سابق وزیراعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ جو کوئی فرانسیسی اقدام اور نئی حکومت کی تشکیل میں ناکامی پر خوشی منارہا ہے تو اس کو بعد میں وقت کے ضیاع پر پچھتانا پڑے گا اور ندامت سے اپنی انگلیاں مُنہ میں داب لیں گے۔

Tabool ads will show in this div