بھارتی حکومت پاکستانی ہندوؤں کی موت کی تحقیقات کرے،پاکستان ہندوکونسل

انصاف نہ ملا تو لاکھوں افراد کیساتھ واہگہ بارڈر پر بھی جائیں گے
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/09/Hindu-Protest-Ends-Isb-Pkg-25-09.mp4"][/video]

بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کےبہیمانہ قتل کیخلاف ہندو برادری کا اسلام آباد میں جاری دھرنا رات گئے ختم کردی گیا۔سربراہ پاکستان ہندو کونسل رميش کمار نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مذمتی قرارداد چسپاں کردی۔ پاکستان ہندو کونسل نے بھارتی حکومت سےواقعے کی شفاف تحقيقات کرانے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف نہ ملا تو لاکھوں افراد کیساتھ واہگہ بارڈر پر بھی جائیں گے۔

اگست میں جودھپورمیں 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل کیخلاف پاکستان کی ہندو برادری نے احتجاج کیا۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مذمتی قرارداد چسپاں کرنے کے بعد سربراہ ہندوکونسل رمیش کمارنے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

رمیش کمارنے بتایا کہ جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ کچھ حد تک پا لیا ہے،بھارتی ہائی کمیشن اور بھارتی حکومت سن لے کہ مثبت جواب نہ ملنے پر واہگہ پر لاکھوں عوام کو جمع ہوجائے گا،ہم بارڈر کے اس جانب سے انصاف مانگتے ہیں۔

رمیش کمار نے متاثرہ خاندان کو اںصاف فراہمی کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ خود اسٹاف افسر کو جاکر قرارداد فراہم کی اورایک کاپی بھارتی ہائی کمیشن کی دیوار پر چسپاں کی۔

مظاہرے میں شریک اقلیتی برادری مذہبی آزادی اور حقوق کے تحفظ کی فراہمی پر پاکستان سے اظہار محبت کرتی دکھائی دی۔

Tabool ads will show in this div