سانحہ آرمی پبلک اسکول، 15افسران کیخلاف کارروائی ہوئی، ملٹری رپورٹ

ایک بریگیڈیئر، کرنل اور میجر کو بھی کارروائی کاسامنا کرناپڑا

سانحہ آرمی پبلک اسکول کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے بعد پاک فوج کی جانب سے ایک بریگیڈیئر سمیت 15 افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی ہوئی، میجر سمیت 5 افسران کو برطرف کردیا گیا۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور پر جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے بعد پاک فوج کی جانب سے اپنے افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ایک بریگیڈیئر سمیت 15 افسران اور اہلکاروں کیخلاف کارروائی ہوئی، پاک فوج کی کورٹ آف انکوائری نے ایک میجر سمیت 5 اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا۔

جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق کرنل کاشف نے پاک فوج کی جانب سے محکمانہ کارروائیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بریگیڈیئر اور کرنل رینک کے 2 افسران کو ترقی نہ دینے اور آئندہ حساس مقامات پر تعینات نہ کرنے کی سزا دی گئی جبکہ ایک حوالدار سمیت 5 اہلکاروں کو 28 دن تک قید بامشقت بھگتنا پڑی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عسکری حکام نے واضح کیا کہ کارروائیاں کسی کے سانحہ میں ملوث یا غفلت برتنے کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاک فوج کے اعلیٰ معیار کے مطابق کارروائی نہ کرنے پر کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اتنے بڑے سانحہ کے بعد محکمانہ انکوائری ناگزیر تھی۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول میں طلبہ سمیت 150 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے۔

APC

Tabool ads will show in this div