میزائل حملے ہر صورت بند ہونے چاہئیں، ندیم ملک لائیو میں شرکاء کا مؤقف

ویب ڈیسک


اسلام آباد : سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ میزائل حملے ہر  صورت بند ہونے چاہئیں، سراج الحق کہتے ہیں کہ نیٹو سپلائی روکنے کیلئے عوامی تحریک کا دائرہ کار دیگر شہروں تک بڑھائیں گے، فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ وفاق کو کہنے کے بجائے خیبرپختونخوا حکومت خود نیٹو سپلائی کیوں نہیں روکتی۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے وزیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ پوری قوم کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ میزائل حملے بند ہونے چاہئیں، حملوں کا سلسلہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام علاقوں تک پہنچ گیا، نیٹو سپلائی روکنے کیلئے عوامی تحریک کا دائرہ کار دیگر شہروں تک بڑھائیں گے، میزائل حملوں کی وجہ سے بدامنی اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا، ہم اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ آج ہمارے ہاں دہشت گردی کی جنگ کی نظر ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار ہے آئندہ 3 سال میں ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی، ہنگو میں مارے جانے والے عام لوگ تھے یا ملزم ابھی تک طے نہیں ہوا، اس حملے کو اسلام آباد پر حملہ تصور کیا جانا چاہئے، مسلم لیگ ن خارجہ پالیسی تبدیل کرے، تمام جماعتیں اور قوم حمایت کرے گی۔


سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری کہتے ہیں کہ پاکستان کی بہتری کیلئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے تو خیبرپختونخوا حکومت خود نیٹو سپلائی کیوں نہیں روکتی، ہنگو میں میزائل حملہ سرحدوں کی خلاف ورزی ہے، میزائل حملے ہرگز نہیں ہونے چاہئیں، دہشت گردی کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہئے۔


ان کا مؤقف ہے کہ میزائل حملوں میں جو لوگ مارے گئے وہ پاکستانی قوانین کو تسلیم نہیں کرتے تھے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بم دھماکوں میں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا۔


پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میزائل حملوں پر تحفظات ہیں، نیٹو ممالک سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، وفاق کے نہیں میزائل حملوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی کو عوامی دباؤ سے روک سکتے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کے سامنے کھڑا کردینا عقلمندی نہیں ہوگی، آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں نے وفاق کو اختیار دیا تھا تاہم انہوں نے کچھ نہیں کیا۔


معروف کالم نگار اور تجزیہ کار ہارون الرشید کہتے ہیں کہ یہ ساری تحریک دباؤ ڈالنے کیلئے شروع کی گئی ہے، میزائل حملے روکنے کیلئے سب سے بہتر طریقہ قومی یکجہتی ہے، پاکستان بہت مشکلات میں ہے، حکمران اور اپوزیشن کنفیوژن کا شکار ہیں، سمجھداری اور توازن کے ساتھ فیصلے کرنا ہوں گے۔


انہوں نے کہا کہ افغانستان اور خطے میں استحکام کیلئے پاکستان سمیت تمام ممالک کو مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنا چاہئے، پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کا فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات پر اثر پڑا، وفاقی حکومت قومی معاملات پر سنجیدگی سے غور نہیں کررہی، ہمیں اپنی پالیسیوں کی سمت درست کرنا ہوگی۔ سماء

میں

کا

ملک

Saudi Arabia

Bipasha Basu

KESC

defeat

message

newspapers

Tabool ads will show in this div