ہماری جدوجہدعمران خان کوطاقت میں لانے والوں کیخلاف ہے،نوازشریف

جماعت اسلامی کا شرکت سے انکار

کل جماعتی کانفرنس سے خطاب میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس حکومت میں سابق جرنیل کی کرپشن سامنے آنے پر کوئی تحقیقات نہیں ہوتی مگر ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کردیا جاتا ہے۔ میری گزاری ہے کہ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو سامنے لایا جائے۔ ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کیخلاف ہے۔

مسلح افواج اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھیں

سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مسلح افواج اپنے عہد کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوامی حکمرانی میں مداخلت نہ کرے۔ کسی کے کہنے پر پرائم منسٹر ہاؤس میں داخل ہو کر بندوق کی نوک پر منتخب وزیراعظم کو گرفتار نہ کرے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ "ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں، بلکہ عمران خان کو حکومت میں لانے والوں کے خلاف ہے"۔ وطن سے دور ہوتے ہوئے جانتا ہوں کہ وطنِ عزیز کن مشکلات سے دوچار ہے، میں اسے فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں۔ یہ حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ یہاں آزادی کی آواز دبانے اور میڈیا کو دباؤ میں لانے کیلئے ریاستی اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصلحت چھوڑ کر فیصلے کریں، آج نہیں تو کب کریں گے، مولانا کی سوچ سے میں متفق ہوں۔ پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت کو دیکھ کر بھارت نے کشمیرکو اپنا حصہ بنالیا۔ پاکستان دنیا تو کیا دوستوں کی حمایت بھی حاصل نہ کرسکا۔ پاکستان میں ووٹ کو عزت نہ ملی تو ملک مفلوج ہی رہے گا۔ سی پیک کے ساتھ پشاور کی بی آر ٹی جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ اس نااہل حکومت نے پاکستان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ حکومت نے کوئی بڑا ترقیاتی مںصوبہ شروع نہیں کیا۔ مارشل لاء ہوتا ہے یا متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے۔ منتخب وزیراعظم کی سزا ختم ہونے کو ہی نہیں آرہی۔ قرضوں میں اضافہ کر کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے۔

پی پی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کانفرنس کی جھلک

نیب سے متعلق سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹر کے بنائے ہوئے ادارے کو ابھی تک برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ادارہ اس حد تک گر جائے گا، یہ ادارہ نہیں بلکہ انتقام لینے کا ادارہ ہے۔ ادارے کا سربراہ تک اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر پکڑا جاتا ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن جلد آنے والا ہے جب اس ادارے کا احتساب ہوگا۔ موٹر وے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ موٹر وے پر قوم کی بيٹی کے ساتھ ہونے والا واقعہ دل دہلا ديتا ہے۔ حکومت کی ہمدردياں قوم کی بيٹی کے بجائے پوليس افسر کے ساتھ ہيں۔

ناسمجھ سیاسی بونوں کی سیاست

آل پارٹیز کانفرنس کے آغاز پر پہلا خطاب سابق صدر آصف علی زرداری نے کیا۔ سابق صدر نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی سی کی کامیابی کا سہرا سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں موجودہ حالات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اے پی سی کو بہت پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ ہر چیز کی بنیاد جمہوریت ہے،ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیٕں۔ ناسمجھ سیاسی بونوں کو سیاست کا کچھ پتا نہیں۔ اے پی سی کو بہت پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ ہر چیز کی بنیاد جمہوریت ہے،ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے ہھتکنڈے تو پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں چلائے گئے جو اس حکومت میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

سابق صدر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، یہ ان میں کامیاب نہیں ہو گی،اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے یہی آپ کی کامیابی ہے، بلکہ یہ ہماری کامیابی ہے، لوگ ہمیں سن رہے ہیں، چاہے کتنی ہی پابندیاں لگائی جائیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ خوشی ہے کہ ہماری بیٹی مریم نواز بھی یہاں ہیں، مریم نواز قوم کی بیٹی ہیں، انہوں نے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ 18 ویں ترمیم آئین کے گرد دیوار ہے جس سے کوئی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، اے پی سی کی کامیابی کا سہرا آپ سب کے سر ہے، ہم نے دیکھا انہوں نے کیا تکلیف برداشت کی، ہم سمجھ سکتے ہیں۔

قبل ازیں

آل پارٹیز کانفرنس کی تمام تر تیاریاں ہفتہ تک مکمل کرلی گئیں تھیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن میں واقع حسن نواز کے دفتر سے بذریعہ ویڈیو لنک اے پی سی میں شرکت کریں گے، جب کہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

شہباز شریف اے پی سی میں شرکت کیلئے لاہور سے اسلام آباد پہنچے۔ مریم نواز سمیت ن لیگ کا 13 رکنی وفد کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے۔ مریم نواز مری سے اسلام آباد پہنچیں۔ اے پی سی میں شرکت سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی رات گئے تک مشاورت جاری رہی۔

دوسری جانب آفتاب شیر پاؤ، سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر عبدالمالک نے بھی کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات میں جے یو آئی سربراہ نے اے پی سی کا حصہ بننے کی حامی بھر لی۔

آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔ کثیر الجماعتی کانفرنس میں حکومت کے خلاف حکمت عملی پر غور ہوگا۔

شہزادے شہزادیوں کی جنگ

اے پی سی میں شرکت کیلئے بلاول بھٹو زرداری نے سراج الحق سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تاہم جماعت اسلامی نے اے پی سی ميں شرکت سے صاف انکار کردیا۔ امیر جماعت اسلامی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ہم ان شہزادے، شہزاديوں کے مفادات کی کسی جنگ کا حصہ نہيں بنيں گے۔

جیالے رہنما

پی پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اے پی سی نے حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے۔ پی پی پنجاب کے ترجمان اور سینیر سیاستدان قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ حکومت بہت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا اگر ایسا ہی ہے تو وہ کل سے کیوں اتنے اتولے ہیں اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں سہارے حکومتوں کو نہیں بچا سکتے۔ سہارا عوام کا ہی ہوتا ہے۔ قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد کسی کیلئے ریلیف لینا نہیں، پیپلز پارٹی عدالتوں سے سرخرو ہوتی رہی ہے۔

[caption id="attachment_2044916" align="alignright" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

ٹوئٹر جنگ

اے پی سی سے قبل نواز شریف کے ممکنہ خطاب پر پی ٹی آئی اور ن لیگی رہنماؤں میں ٹوئٹر وار چھڑ گئی۔ شہباز گل نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مفرور مجرم کا خطاب پارليمنٹ کی توہين ہوگی، جس پر مريم نواز نے جواب دیا کہ روک سکو تو روک لو نوازشریف کی آواز گھر گھر گونجے گی۔

BILAWAL

APC

JAMAT E ISLAMI

Tabool ads will show in this div