امریکی وزیرکےتائیوان پہنچتےہی چین کافوجی مشقوں کااعلان

فوجی مشقیں قومی سلامتی کیلئے ضروری ہیں
Sep 19, 2020
بشکریہ ویبو سائٹ
بشکریہ ویبو سائٹ
[caption id="attachment_2044191" align="alignright" width="800"] بشکریہ ویبو سائٹ[/caption]

چین نے امریکی وزیر کی تائیوان آمد کے فوراً بعد ہی آبنائے تائیوان میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چین کا فوجی مشقوں سے متعلق بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی معاون وزیرِ خارجہ برائے معاشی ترقی، توانائی اور ماحولیات، کیتھ کریچ جمعرات کو 3 روزہ دورے پر تائیوان کے دارالحکومت تائی پے پہنچے ہیں۔

امریکا کے محکمہ خارجہ کی جانب سے گزشتہ 40 برسوں میں یہ کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا یہ پہلا دورہ ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ کیتھ کریچ تائیوان کے سابق آنجہانی صدر لی تینگ ہوئی کی یاد میں معنقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے تائیوان آئے ہیں۔

اعلیٰ امریکی عہدے دار تائیوان کے وزیرِ خارجہ جوزف وو اور صدر سائی اینگ وین سے ملاقات بھی کریں گے۔ چین کے محکمہ دفاع کے ترجمان سے جمعے کی بریفنگ کے دوران جب کیتھ کریچ کے تائیوان کے دورے سے متعلق پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ہم آبنائے تائیوان میں حقیقی جنگی مشقیں کر رہے ہیں۔

[caption id="attachment_2044181" align="alignright" width="800"] بشکریہ ویبو سائٹ[/caption]

ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں آبنائے تائیوان میں چین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے جنگی مشقیں موجودہ حالات میں ایک ضروری اور درست اقدام ہے۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے چین میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ تائیوان کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران چین کے جنگی طیاروں اس کے دفاعی علاقوں میں خلاف ورزیاں کی ہیں۔

سال 1949 کی خانہ جنگی کے بعد سے تائیوان کا جزیرہ خود مختار ہے اور چین کئی عشروں سے تائیوان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ چین اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور تائیوان کو تسلیم کیے جانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ہے۔

CHINA

Tabool ads will show in this div