کالمز / بلاگ

بھارتی سیکولرازم اور مودی ازم

Father of two children who were burnt alive, with his hands bandaged, wails next to the bodies of his children, as he and other villagers block a national highway during a protest against the crime at Ballabhgarh, in India

نوید نسیم

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت رکھنے والا بھارت ایسے مقام پر آن پہنچا ہے جہاں بھارت کا سیکولرازم، بھارت کے گلے پڑ چکا ہے اور اس کی وجہ نریندر مودی کی سربراہی میں چلنے والی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ جسے عام انتخابات میں بھارتیوں نے چُنا۔

اگر دیکھا جائے تو بھارت میں کامیاب اور مسلسل جمہوریت کی وجہ بھارت کا سیکولرازم ہے۔ جس کی وجہ سے مختلف مزاہب سے تعلق رکھنے والے افراد 68 برسوں سے بھارت میں رہ رہے ہیں۔ مگر حالیہ ہونے والے لاثانی اور مزہبی فسادات بھارتی نام نہاد سیکولرازم کا بھانڈہ پھوڑ رہے ہیں۔

Times-Now-1500-19-10

نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بھارتی مسسلمان رکن اسمبلی انجینئر رشید نے بھی قائد اعظم کے فیصلے کو بھارت کے موجودہ حالات میں سراہا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نریندر مودی کی سربراہی میں ترقی کی منازل طے کرنے کی بجائے مزہبی اور نظریاتی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گائے کا گوشت کھانے پر پابندی، سکھوں کی مزہبی کتاب کی بے حرمتی اور دلتوں کی کتوں سے تشبیہ، بھارتی حکومت کے دل میں چھپی منافقت کو آشکار کرتی ہے

سابق آرمی چیف اور موجودہ وزیرجنرل وی کے سنگھ کا دلتوں کے بارے میں بیان دراصل فوج میں دلتوں سے متعلق پائی جانے والی سوچ کی بھی عکاسی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بے جے پی کی حکومت ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج بھی سیکولر نہیں، بلکہ سیکولرازم کا پردہ اوڑھے دیگر مزہبی اقلیتوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والے مودی مسلسل خاموش ہیں اور ان کی خاموشی ان کو اقتدار میں لانے والی پس پردہ قوتوں کے سامنے بے بسی ہے۔

singh-story_647_102215043939

بھارتی یونین منسٹر وی کے سنگھ پہلے بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں جب انھوں نے بھارتی میڈیا کو "Prostitutes" کے خطاب سے نوازا تھا۔ وی کے سنگھ کا دلتوں کی کتے سے تشبیہ اور بھارتی میڈیا کو خطاب ان کی گندی سوچ کی ترجمان ہے۔

بھارت میں گائے کا گوشت کھانے پر پابندی سے لیکر مسلمان مخالف حکومتی عہدیداروں کے بیانات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو آج بھی بھارت نے قبول نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز بھارتی مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

بھارت میں 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی اکثریتی نشستیں حاصل کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی عوام کی اکثریت بھی بھارتی مسلمانوں کو ناپسند کرتی ہے اور بھارتی وسائل پر بوج سمجھتی ہے۔ بھارتی عوام کو عام انتخابات سے قبل باخوبی پتا تھا کہ اقتدار میں آکر بی جے پی مسلمانوں کو نشانہ بنائے گی۔ مگر بیوقوف بھارتی عوام مودی کی ریاست گجرات میں کی جانے والی نام نہاد ترقی کو دیکھ کر پھسل گئے اور اب جب مودی کا اصل چہرہ سامنے آرہا ہے تو بھارتی ووٹرز پشتا رہے ہیں۔

sena_protest_bcci

حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات میں انتہا پسند آر ایس ایس کے علاوہ انتہا پسند شیو سینا بھی آگے آگے ہے۔ جس نے بمبائی میں بی سی سی آئی کے دفتر پر اس وقت دھاوا بولا جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدار بھارتی دعوت نامے پر بمبائی میں تھے۔  شیو سینا کی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستانی ایمپائر علیم ڈار کو بھی بھارت اور ساؤتھ افریقہ کی کرکٹ میچ کی ایمپائرنگ سے روک دیا گیا۔ اس کے علاوہ وسیم اکرم، شعیب اختر، فواد خان اور ماہیرہ خان کو بھی بھارت چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔

شیو سینا کو بھارتی حکومت کی اتنی چھوٹ، شیو سینا کو حکومت آشیر باد ہونے کا ثبوت ہے۔ وگرنہ اگر بھارتی حکومت اتنی ہی بے بس ہے تو وہ آکھل بھارتیہ ہندو ماہاسبہ کو بھی موہن داس گاندھی کے قاتل نتھو رام گودسے کا مجسمہ بنانے دے۔

بنیادی طور پر ہندوستان ایک مختلف رنگوں کی چھتری ہے جسے سیکولر بھارت کا نام دیا گیا ہے۔ جسمیں مختلف مزاہب کے لوگ رہائش پزیر ہیں اور یہی سیکولر طرز سوسائٹی بھارت کو یکجا کئے ہوئے ہے۔ مگر موجودہ حالات و واقعات مستقبل میں بھارت کے کئی حصّے ہوتے دکھا رہی ہے۔

اختتامی نوٹ: مودی ازم کو ماؤ ازم سے تشبیہ دینے پر مصنف شرمندہ ہے اور معزرت کا طلبگار ہے۔

indian media

CRICKET MATCH

MLA

FORMER ARMY CHIEF

FAWAD KHAN

Pakistani umpire

VK Singh

secular India

secularism

democracy in India

Shoaib Akhter

Shev Sina

Modi-ism

Maoism

Indian extremist

2014 general elections

Engineer Rahseed

religious anarchy

Tabool ads will show in this div