موٹر وے واقعہ:ایک ملزم نے گرفتاری دے دی

،الزامات سےانکار

لاہور موٹر وے واقعہ میں ملوث دوسرے ملزم نے سی آئی اے پولیس کو گرفتاری دے دی۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

اتوار 13 ستمبر کو لاہور موٹر وے واقعہ میں نامزد ملزم نے سی آئی اے پولیس ماڈل ٹاؤن کے سامنے گرفتاری دے دی، تاہم ملزم نے پولیس کے سامنے جرم تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ملزم کا ڈی اين اے اور پولی گرافک ٹيسٹ آج کرائے جانے کا امکان ہے۔

ملزم کا کہنا ہے کہ ٹريس ہونے والا نمبر برادر نسبتی کے استعمال ميں ہے۔ پولیس نے ملزم کو مزید تفتیش کیلئے سی آئی اے سینٹر منتقل کردیا، جہاں اسے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ ملزم سے متعلق پولیس کی جانب سے مزید تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے برادر نسبتی کی گرفتاری کیلئے قلعہ ستار شاہ گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا، تاہم ملزم فرار ہوگیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ہفتہ 12 ستمبر کو آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ موٹر وے واقعہ میں ملوث ملزمان کی شناخت ہوگئی ہے۔ ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ایک ملزم کا تعلق فورٹ عباس سے ہے اور اس کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے میچ کر گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کے لیے 25 ،25 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ 28 ٹیمیں اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہیں۔ 72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزمان کی شناخت ہوئی ہے۔

قبل ازیں پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران 53 افراد کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے۔

پس منظر

ستمبر 9 بدھ کی رات کو فرانس سے چھٹیوں پر پاکستان آئی خاتون اپنے کم سن بچوں کیساتھ لاہور سے براستہ سیالکوٹ موٹروے گجرانوالہ جا رہی تھی۔ راستے میں پیٹرول ختم ہوا تو خاتون نے گاڑی روک دی۔ اس دوران 2 نامعلوم افراد آئے اور خاتون کو بچوں سمیت قریبی کھیتوں میں لے گئے۔ ملزمان نے پہلے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور جاتے ہوئے قیمتی سامان بھی چھین کر فرار ہوگئے، جس میں ایک لاکھ نقدی، زیورات اور ڈیبٹ کارڈ و دیگر اہم اشیا شامل تھیں۔

CCPO LAHORE

Tabool ads will show in this div