کالمز / بلاگ

کیا آپ پاکستان کٹنگ برداشت کریں گے؟

تجاوزات کیلئے چائنا کٹنگ کا استعمال نامناسب ہے

ہمارے شعبے سے ہی تعلق رکھنے والے ایک سینئر ساتھی نے ایک روز اچانک ایک سوال چھیڑ دیا کہ "کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ کوئی کسی غیر قانونی کام کو پاکستان کے نام سے منسوب کردے؟"

ظاہر ہے میرا جواب نفی میں ہی تھا لیکن خیر پہلے یہ بتاتا چلوں کہ یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے جشن آزادی کے موقع پر ایسے کیک کاٹے جانے پر اعتراض کیا تھا جن پر پاکستان کا جھنڈا یا نقشہ بنا ہوتا ہے۔

جب میں نے ان سے استفسار کیا کہ اپنے اس سوال کے ذریعے وہ کہنا کیا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنی گفتگو کا باقائدہ آغاز کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں چین ہمارا بہترین دوست ہے لیکن گزشتہ 10 برسوں سے میں ایک تماشا کراچی میں دیکھ رہا ہوں جو اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔

اتنا کہہ کر انہوں نے تھوڑا توقف کیا اور میں انہیں حیرت سے تکتے ہوئے سوچنے لگا کہ الٰہی یہ پاکستان سے ایک ہی جست میں چین پہنچ گئے اب کہیں روس سے ہوتے ہوئے بحیرہ اوقیانوس میں ہی نہ اتر جائیں اور ان کی وہ غیر قانونی کام اور پاکستان والی بات ہوا میں نہ رہ جائے۔

خیر ایسا کچھ نہیں ہوا اوروہ اپنی بات اگے بڑھاتے ہوئے بولے کہ کراچی میں کہیں بھی کسی رفاعی پلاٹ یا کوئی اور زمین کاٹ کر اس پہ غیر قانونی تعمیرات ہوتی ہیں تو اسے چائنا کٹنگ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ملک آپ کا شہر آپ کا غیر قانونی قبضے کرنے والے لوگ آپ ہی میں سے اور اس حوالے سے اصطلاح میں استعمال ہوتا ہے کسی اور ملک کا نام۔ وہ بھی ایسا ملک جو چاروں طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہمارے وطن عزیز کے ساتھ صحیح معنوں میں کھڑا دنیا کا واحد ملک۔

مزید پڑھیے : میں نے جشن آزادی کا کیک کھانا گوارا نہیں کیا

 اب ان کی بات کا مقصد کچھ کچھ مجھ پر کھل رہا تھا اور وہ اپنی رو میں بہتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ بھلا یہ بھی کوئی طریقہ ہے زرا سوچیں کیا یہ بات دنیا کی اس ابھرتی ہوئی سپر پاور کے کانوں تک نہیں پہنچتی ہوگی؟ یہ نامعقول اصطلاح سن کر کتنی کوفت ہوتی ہوگی چینیوں کو۔ یہ تو اس کی بڑائی ہے کہ اس نے اس بات پر پاکستان سے ابھی تک کوئی احتجاج نہیں کیا۔ کم از کم کھلم کھلا تو نہیں کیا۔ ہم زرا خود کو چین کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ ہم پر کیا گزرے اگر کسی ملک میں ہونے والے کسی غیر قانونی کام کو بیان کرنے کیلئے وہاں کے لوگوں کی طرف سے بلا وجہ لفظ پاکستان کا استعمال کیا جائے اور ملک بھی وہ ہو جسے ہم اپنا دوست نہ صرف کہتے بلکہ سمجھتے بھی ہوں۔

اب میں بھی حسب عادت بحث کرنے کیلئے پر تول رہا تھا اور کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ سے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ صاحب کیا مقننہ کیا عدلیہ اور کیا انتظامیہ تینوں سے متعلقہ افراد بھی اب یہ اصطلاح استعمال کرتے نظر ہیں اور میڈیا بھی اس میں پیش پیش ہے۔ شہر کے معتبر ادارے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سرکاری کاغذات میں افسران اور اپنی گفتگو میں میئر صاحبان بھی یہی فقرہ استعمال کرتے نظر اتے ہیں اور میڈیا ایسے بیانات میں یا خود اپنی رپورٹس میں یہی فقرہ دہراتا دکھائی دیتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ تجاوزات کے حوالے سے چلنے والے کیسوں کے دوران فاضل عدالتوں میں بھی یہی اصطلاح استعمال ہونے لگی ہے اور اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیا جاتا۔

ان صاحب نے چوں کہ میڈیا سمیت ملک کے تمام ہی اداروں کو لپیٹ میں لے لیا تھا تو مجھ سے مزید چپ نہیں رہا گیا اور میں بول پڑا کہ جناب آپ اس معمولی سی بات کو ایک بڑا ایشو کیوں بنا رہے ہیں بھئی پلاٹوں کی اس قسم کی کٹنگ کیلئے چائنا کا لفظ شاید اس وجہ سے جوڑ دیا گیا ہوگا کہ چائنا کا مال تھوڑا کم معیاری ہوتا ہے مطلب ایک نمبر نہیں ہوتا اور اس کی پائیداری کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تو یہاں بھی لوگوں نے سوچا ہوگا کہ ایسی کاٹی گئی جگہوں کے کوئی پکے کاغذ تو ہوتے نہیں نہ جانے کب اس سے ہاتھ دھونا پڑجائے تو شاید اس وجہ سے ایسی کٹنگ سے پہلے لفظ چائنا جوڑ دیا گیا ہوگا۔ اب اس میں اتنا سوچنے اور کڑھنے کی بھلا کیا بات ہے۔

بس جناب یہ سننا تھا کہ وہ صاحب تو گویا ہتھے سے ہی اکھڑ گئے اور میری دلیل کو کمزور قرار دیتے ہوئے تیز لہجے میں کہنا شروع کیا کہ چین کی اشیاء کو غیر معیاری کہنے والے ایک بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ چینی اتنے باصلاحیت ہیں کہ انہیں کسی بھی شئے کا نمونا دے کر اس کے ساتھ جتنا زیادہ ریٹ دیا جائے وہ اتنے ہی معیار ہی کی من و عن چیز بنا دیتے ہیں۔ اب جب ہمارے ہاں کا امپورٹر پیسے ہی کم دے گا اور یہاں کوالٹی کنٹرول کا تصور ہی ناپید ہوگا تو پھر آپ کو چیز بھی اسی معیار کی ہی ملے گی۔ زرا مغربی ممالک میں دیکھ لیں وہاں چین وہی چیز کتنی زبردست اور معیاری بنا کر دیتا ہے۔ اب اگر رکھنے والوں نے یہ سوچ کر تجاوزات یا غیر قانونی کٹنگ کا نام چائنا کٹنگ رکھ دیا کہ پلاٹوں کی ایسی کٹنگ تیسرے درجے کی ہوتی ہے اور اس کی قانونی حیثیت صفر ہوتی ہے تو پھر وہ جان لیں کہ جس نسبت سے وہ یہ کہہ رہے ہیں اس کے ذمہ دار چینی نہیں بلکہ خود ان کے اپنے لوگ ہیں جو کم قیمت مال اٹھاتے ہیں اور پھر اس کا ملبہ چین پر ڈالتے ہوئے ایسی بھونڈی اصطلاح گھڑ لی جاتی ہے۔

میں نے یہ اندازہ کرتے ہوئے کہ شاید وہ صاحب تھوڑے سنکی سے ہوچکے ہیں اسی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ایشوز کو اتنا سیریس لے کر جھک جھک کرنے لگے ہیں ان سے مزید کوئی بحث نہیں کی اور ان کا غصہ کم کرنے کی غرض سے ان سے دریافت کیا کہ آخر یہ اصطلاح کیسے اور کب سے استعمال ہونا شروع ہوئی۔

میرے اس سوال پر انہوں نے بتایا کہ دراصل ہوا یوں تھا کہ سن 2011 میں ایک کم معروف اخبار کے ایڈیٹر نے پاکستان کے چیف جسٹس صاحب کو خط لکھا جس میں انہوں نے کلری تھانے کی حدود سے لے کر مچھر کالونی کیماڑی بلکہ اس سے بھی کچھ آگے نالے و سندھ بورڈ آف ریونیو اور کے پی ٹی کی دیگر زمینوں کی غیر قانونی کٹنگ اور ان پر بستیاں بس جانے کی شکایت کی اور اس سارے عمل کو چائنا کٹنگ کا نام دیا۔ عدالت نے اس شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر کو شو کاز جاری کیا تھا۔ تاہم عدالت نے اس وقت وہ اصطلاح استعمال نہیں کی بلکہ اسے پلانڈ اینکروچمنٹ کہا لیکن بعد میں پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہی نامعقول اصطلاح ہر طرف ہی چل پڑی۔

معاشرے کا بھی عجیب ہی حال ہے کوئی ایک جملہ کسی نے پھینک دیا تو بس سب ہی اسے گود لینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ تھوڑا سوچ بچار تو کرنا ہی چاہیے نا۔ سوچ کر بولیں یا نہیں تو بول کر ہی سوچ لیں اور بات غلط لگے تو اصلاح کرلیں۔

میں نے تھوڑی ہمت کر کے کہا کہ جناب اب جب یہ اصطلاح یا فقرہ رائج ہو ہی چکا ہے تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے نظر انداز ہی کرنا بہتر رہے گا۔ اس پر وہ بولے کہ بالکل نہیں اس کا سد باب ہونا چاہئے اور ہو بھی سکتا ہے۔ وہ کیسے میں نے یونہی سوال کردیا حالاں کہ اب اس گفتگو میں میری کوئی دلچسپی باقی رہ نہیں گئی تھی۔

میرے سوال پر انہوں نے با اعتماد لہجے میں کہا کہ یہ سلسلہ رک سکتا ہے اور اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان عدلیہ کی اس بات کی طرف توجہ دلائیں اور چائنا کٹنگ والی اصطلاح کا استعمال ملک بھر میں رکوانے کی گزارش کریں۔

اس وقت تو مجھ پر ان کی باتوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا لیکن پھر میں نے بعد میں تھوڑا غور کیا تو مجھے یہ بات کچھ ٹھیک ہی لگی کیوں کہ چین اور پاکستان کی دوستی تو اٹوٹ ہے لیکن ایسی اصطلاحات سے ہمارے دوست ملک کی دل آزاری کے امکانات تو بہر حال موجود ہیں لہٰذا ایسی فضول اصطلاح استعمال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ اس کی جگہ تجاوزات یا غیر قانونی تعمیرات جیسے الفاظ بھی بولے جاسکتے ہوں۔

china cutting

Tabool ads will show in this div