سپریم کورٹ کا35لاپتہ افراد کو ایک بجے تک عدالت میں پیش کرنیکاحکم

ویب ڈیسک:
لاہور : سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں لاپتی افراد کی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پینتیس لاپتہ افراد فوج کے پاس ہیں، سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ 35 افراد کو ایک بجے تک عدالت میں پیش کیا جائے، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تمام معاملہ وزیردفاع کے نوٹس میں لايا جائے، کیس رجسٹر ہوا تو مسئلہ ہوگا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت  جاری ہے۔ چيف جسٹس نے سیکریٹری دفاع کے عدالت نہ آنے اور پينتيس لاپتا افراد کو پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ ایڈیشنل سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ سیکریٹری دفاع بیمار ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا اگر وہ بیمار ہیں تو چھٹی پر جاکر چارج کسی اور کو دے ديں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق یہ گواہی  سامنے آچکی ہے کہ انہیں مالاکنڈ جیل سے غائب کیا گیا۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کررہا ہے۔ دوران سماعت 35 قیدیوں کو بازیاب نہ کرنے اور سیکریٹری دفاع کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ سیکریٹری دفاع کی عدم حاضری پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر سیکریٹری دفاع بیمار ہیں تو چھٹی لے کر چارج کسی اور کو دیتے۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ 35 افراد کے ثبوت آئے ہیں، انہیں جہاں سے مرضی بازیاب کرا کر لائیں،وزیراعظم، وزیر دفاع یا کسی بھی وردی والے سے رابطہ کر کے بتائیں کہ یہاں جواب کون داخل کرائے گا۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکریٹری دفاع کو حکم دیا کہ ایک بجے تک 35لاپتہ افراد کو ہر صورت عدالت میں پیش کریں،گر آج ان افراد کو پیش نہ کیا گیا تو نتائج سے آگاہ رہیں۔ سماء

میں

MQM

کو

ایک

online

Tabool ads will show in this div